ترین فیملی پر اربوں روپے فراڈ کا مقدمہ درج
جہانگیر ترین،ان کے بیٹے علی ترین،داماد او رفیملی کے دیگر افراد کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اربوں روپے فراڈ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے اپنے داماد کی بند کاغذ اور پلپ بنانے والی فیکٹری کے اکاؤنٹس میں سوا تین ارب روپے جمع کرائے اور بعد میں یہ رقم خاندان کے دیگر افرادکے اکاؤنٹس میں منتقل کرائی گئی۔ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ شوگر مافیا کے 70ارب رپے کی ٹرانزیکشنز کاریکارڈ حاصل کرلیاگیا ہے۔ایف آئی اے نے 40بڑے چینی ڈیلرز کیاکاؤنٹس سمیت424اکاؤنٹس منجمد کر دیئے ہیں۔جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان کی یہ پہلی حکومت ہے جو مافیاز کے سامنے کھڑی ہوئی ہے، ہم نے اپنا دیکھا نہ پرایا،بلا تفریق احتساب کیا۔عوام کے لئے مافیازکو قانون کے کٹہرے میں لائے۔مافیاز نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا۔کمیشن رپورٹ میں مافیاز اور سٹے بازوں کو ذمہ دار قرار دیاگیا ہے۔واضح رہے کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی سے وابستہ رہے، ان کی وابستگی متعدددہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے، وہ عمران کے کے انتہائی قریبی افراد میں شامل رہے ہیں۔ انہیں اپوزیشین کی جانب سے عمران خان کا ”اے ٹی ایم“ کہا جاتا رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جہانگیرترین نے حکومت سازی سے لے کر ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا۔اتحادیوں سے ملاقات کیں، ان کے خدشات دور کئے اور ملک کو کسی بھی نئے سیاسی بحران سے بچانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ اتنے قریبی اور دیرینہ ساتھی کے بیشمار سیاسی اور مالی احسانات کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کا احتساب کے لئے ڈٹ جانا ایک قابل قدر مثال ہے۔جہانگیر ترین ایک سے زائد مواقع پر تسلیم کر چکے ہیں کہ ان الزامات کے باعث عمران خان اور ان کے درمیان دوری پیدا ہوئی۔انہیں خود بھی افسوس ہے۔اپوزیشن مانے یا نہ مانے لیکن سچ یہی ہے کہ حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ وزیر اعظم عمران کو جاتا ہے جو اپنے فیصلے پر قائم رہے، کسی قسم کی مصلحت انہیں احتساب کے راستے نہیں ہٹاسکی۔ یہ کرپشن کا پہلا مقدمہ نہیں ہے۔ماضی میں بھی متعدد مقدمات درج ہوئے لیکن بیشتر الماریوں میں دفن رہے۔ بہت سے مقدمات کا ریکارڈ جلنے کی رپورٹس میڈیا کی زینت بنیں۔ یہ واقعات اتنی بار دہرائے گئے کہ عام آدمی کے حافظے میں محفوظ ہیں۔یہ بھی اتفاق ہے کہ اکثر ملزمان حکومتی عہدوں پر براجمان رہے،ان کے اقتدار میں ہوتے ہوئے ریکارڈ جلا،اور یہ بھی اتفاق ہے کہ ریکارڈ جلانے کی وارداتیں کراچی اور لاہور کے علاوہ دوسرے کسی شہر میں رونماہوئیں۔یہ بھی حقیقت ہے کوئی ملک کرپشن سے اپنی آنکھیں ہمیشہ بند نہیں رکھ سکتا۔چین میں کرپشن کی سزا فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔لیکن وہاں بھی بااثر لوگوں کوایسی سزائیں دی گئیں۔جب عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لئے کرپشن کا سہارا لینامجبوری بن جائے تو کچھ بھی،کہیں بھی ممکن ہے۔پاکستان میں بھی یہ خرابی عالمی منڈی کی دین ہے۔آف شور کمپنیاں اور سوئس اکاؤنٹس کی سہولت مغرب کے انہی مہذ ب ملکوں نے دنیا بھرکے جرائم پیشہ افراداور گروہوں کو فراہم کی جو آج پارسائی کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بنے دکھائی دیتے ہیں۔ پانامہ لیکس پاکستان کی کسی ایجنسی نے لیک نہیں کیں۔دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام اس فہرست میں موجودتھے۔بڑی تعداد نے اپنے جرم تسلیم کر لئے، عہدوں سے مستعفی ہوئے اور گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان کے حکمران ان کے برعکس نکلے۔نتیجہ براڈ شیٹ کیس کی شکل میں برطانوی عدالت عالیہ میں انہیں للکار رہا ہے۔کرپشن کتنی بھی گہرائی میں دفن کی جائے اس کی سڑاند معاشرے تک پہنچ جاتی ہے۔ڈراؤنے خواب مجرموں کے لئے دنیا میں عذاب بنتے ہیں۔ہر مجرم یہی کہتا ہے:”الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہیں‘، میں نے یا میرے خاندان نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا“۔جہانگیر ترین بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ انہیں یاد ہوناچاہیئے کہ بینکوں کے ذریعے ہونے والی رقوم کی منتقلی اپنی جگہ خود ایک بہت بڑی گواہی ہوتی ہے، اسے جھٹلانا ممکن نہیں ہوتا، اکاؤنٹس بولتے ہیں۔رقم خواہ مخوا منتقل نہیں ہوتی، ایک بھیجنے والا اور دوسرا وصول کرنے والاہوتا ہے‘ ہمیشہ دو اکاؤنٹس آپریٹ کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔چاہے ایک طرف کوئی فالودے والا یا پاپڑ بیچنے والا ہو،لیکن گوہی دیتے ہیں۔ترین فیملی کی جیب میں وزیر اعظم جیسی شخصیت آنے کے بعد انہوں اگر صرف سواتین ارب کا فراڈ کیاہے تو ان کی دی جانے والی مالی، جسمانی اور ذہنی قربانیوں کے مقابلے میں یہ بہت معمولی رقم ہے۔ تاہم وزیر اعظم کا ڈٹ جانا جہانگیر ترین کیلئے غیر متوقع ہوگا۔واضح رہے معیشت دان ہمیشہ سمجھاتے ہیں کہ سرمایہ اپنی اخلاقیات خود ڈکٹیٹ کرتاہے۔ ڈکٹیشن لینا اس کی سرشت میں نہیں لکھا۔کل کی بات ہے،نیب جیسا طاقت ورآئینی ادارہ وزیروں کی ایک آواز پر اپنے پر اور ناخن بچانے کی فکر میں دفتر تک محدودہوجاتا تھا۔ فائلیں ٹیبل سے اٹھاکر الماریوں میں پہنچا دی جاتی تھیں۔اس کے پیچھے صرف اور صرف سرمایہ کی گھن گھرج تھی۔جس سے نیب باخبر تھا۔لیکن پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ درسی کتب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر کام کی ایک حد ہوتی ہے۔حد سے گزرجائے تو ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کرپشن کی بھی یقینا ایک حد ہے۔لگتاہے اب اس نے وہ حد عبور کر لی ہے۔ریاست کو چیلنج کرنے لگی ہے۔ریاست کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔جب مافیاز ریاست کو گلی کوچوں میں للکارنا شروع کر دیں تو انہیں اندازہ
نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہی ہیں۔ پاکستان میں مافیاز سے حساب کتاب میں کہیں کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ اب اس غلطی کو درست کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔جہانگیر ترین بھول گئے تھے کہ ریاست اپنی بقاء کے لئے پلٹ کر دبوچ بھی سکتی ہے۔وہ یہ بھی بھول گئے کہ وزیر اعظم عمران خان کوئی روایتی سیاست دان نہیں جنہیں وزارت عظمیٰ نہ ملے تو ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔وہ مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے غیر ارادی طور پر سیاست کے کوچے میں نکل آئے ہیں۔ان کے بارے میں یہ قیاس نہ کیا جائے کہ وہ کرسی کوہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔تمام انسان ایک جیسی سوچ کے حامل نہیں ہوتے، عمران خان اور جہانگیر ترین کی سوچ ایک نہیں ہوسکتی۔ اس لئے دونوں کی منزل بھی ا یک نہیں۔آنے والے دن ثابت کریں گے کہ مافیازاور وزیر اعظم عمران خان میں سے فتح کسے نصیب ہوتی ہے؟


