لاہور،پانچ خواتین کی لاشیں مختلف جگہوں سے برآمد،پہچان مشکل ہو گئی

لاہور،آئے روز قتل کی واردات کی لرزہ خیز خبریں سننے کو ملتی ہیں مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ اب تو نعشوں کی پہچان بھی نہیں ہو پا رہی۔پتا ہی نہیں چل رہا کہ قتل کرنے والا کون ہے اور مقتول کا تعلق کہاں سے ہے اور یہ بے جان لاشے عدم شناخت کی بناپر ہمیشہ کے لیے سردخانوں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔غیرت کے نام پر قتل، یا پھر معاملہ کچھ اور؟ رواں سال قتل ہونے والی پانچ نامعلوم خواتین کی نعشیں لاہور کی مختلف ویران جگہوں سے ملیں، پانچ خواتین کا قاتل کون، پولیس سراغ نہ لگا سکی۔ذرائع کے مطابق دو ماہ قبل ظفر علی روڈ کے قریب نالے سے جواں سالہ لڑکی کی نعش برآمد ہوئی، گزشتہ ماہ گرین ٹان سے بائیس سالہ لڑکی کی بوری بند تشدد زدہ نعش ملی، کاہنہ کے علاقے میں جوان لڑکی کو بری طرح تشدد کر کے نعش کھیتوں میں پھینک دی گئی، مقتولہ کے سر پر گہری ضرب لگنے سے خون میں لت پت تھی۔غازی آباد کے علاقے میں خاتون کو قتل کر کے نعش پلاٹ میں پھینک دی گئی، جبکہ دو روز قبل مغلپورہ کے علاقے میں اٹھائیس سالہ لڑکی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا، تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی۔پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کی شناخت ہونے پر مزید حقائق واضح ہوں گے۔ دوسری جانب گزشتہ روز تھانہ گلشن راوی کی حدود میں پلازے سے شہری کی نعش برآمد ہوئی، پولیس نے نعش پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر کے کارروائی شروع کردی۔پولیس کا کہنا تھا کہ متوفی کی شناخت 42 سالہ غلام علی کے نام سے ہوئی ہے، متوفی کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے، نعش کو پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا، موت کی وجوہات کا تعین پوسٹمارٹم رپورٹ میں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ رواں برس کے پہلے اڑھائی ماہ میں لاہور کے 87 شہریوں کو مختلف وجوہات پر قتل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدم برداشت اور لین دین کے تنازعات نے زیادہ جانیں لیں، قتل ہونے والوں میں تیس خواتین بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں