وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی خوش آئند ہے،لیاقت شاہوانی

کوئٹہ:ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی خوش آئند ہے لوگوں کو مشتعل کرنے کا رحجان ہمارے ملک کے مفاد میں نہیں،بلوچستان میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی شرح 9فیصد تک بڑ ھ گئی ہے صوبے میں اگر کورونا کے کیسز بڑھتے رہے تو لاک ڈاون کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو آفیسرز کلب کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دیگر صوبوں کی نسبت صورتحال بہتر ہے لیکن تناسب کے حساب سے کیسز بڑھ رہے ہیں،،کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کوئٹہ کے چار اسکولوں کوایک ہفتے کیلئے بند کردیاگیا، سرداربہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ایک پروفیسر کا کورونا کی وجہ سے انتقال ہوا جس کے بعد یونیورسٹی کو بھی بند کردیاگیاہے تاہم مجموعی طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سارے تعلیمی ادارے بند ہوں گے انہوں نے کہا کہ بچوں میں وائرس کے کیس رپورٹ ہونے کے بعد پرائمری اسکولوں میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو انہیں بند کیا جاسکتا ہے اسکولوں کے علاوہ مارکیٹیں بھی بند ہوسکتی ہیں جن شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو انہیں سیل کردیا جائیگا،،لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ایک مذہبی جماعت پر پابندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، لوگوں کو مشتعل کرنا ایک منفی عمل ہے، سیاسی جماعتوں کی جانب سیاس طرح کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے،لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ جنوبی بلوچستان کیلئے 6 سو ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا گیا ہے جس سے نو پسماندہ اضلاع کو ترقی دی جارہی ہے، صوبے کے جنوبی علاقوں کی ترقی پر منفی سیاست کی کوشش کی جارہی ہے،اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جنوبی بلوچستان کے حوالے سے پروپیگنڈا کیاجارہاہے جنوبی بلوچستان صوبہ بنانے کا قوم پرست جماعت کا تاثر غلط ہے نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں ہیبلوچستان ایک صوبہ ہے ایک اور صوبہ بنانے کی کانسیپٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہسستا بازار ایک دو دن میں فعال ہوجائے گاجس میں عوام کو ریلیف دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں