ہمارے ادارے کی کامیابی، محنت لگن اور ایمانداری ہے، ڈاکٹر ساجدہ نورین
کوئٹہ: سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کوئٹہ کی وائس چانسلر ڈاکٹرساجدہ نورین نے کہاہے کہ سرداربہادر خان وومن یونیورسٹی بلوچستان کی10ہزار بچیوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کررہی ہے،صوبے میں مواقعے بہت تاہم ان سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے،ایس بی کے وومن یونیورسٹی کے عملے اوراسٹاف کی محنت اور ایمانداری کی وجہ سے یونیورسٹی معاشی وانتظامی بحران سے نکل پائی ہے،اپنے ٹینور میں طالبات کے رزلٹس کامسئلہ، ایم فل،پی ایچ ڈی کیلئے این او سیز سمیت دیگر پالیسیوں پر کام اور انتظامی اصلاحات لائی ہیں،مالی کرائسز کا بہتر مینجمنٹ کے ذریعے مقابلہ کیاہے جو عملے اور اسٹاف کی بھرپور مدد سے ہی ممکن ہو پائی ہے،یونیورسٹی میں بہت سے ملازمین جو سالوں سے پروموشن کاانتظار کررہے تھے انہیں پروموٹ کیاگیاہے پہلے مرحلے میں گریڈ ایک سے لیکرگریڈ11تک کی پروموشن کی گئی ہے جس کے بعد مزید گریڈ ز کی پروموشن پرکام کیاجائے گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے یونیورسٹی میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کی ڈینز کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ڈاکٹرساجدہ نورین نے کہاکہ ستمبر 2020 ء میں انہوں نے یونیورسٹی کی وی سی کی حیثیت سے چارج سنبھالا چونکہ ان کی سلیکشن میرٹ پر ہوئی تھی تومیری شروع سے کوشش رہی ہے کہ میں ادارے میں میرٹ کو ترجیح دیتے ہوئے اس سے بحال رکھوں،ایس بی کے وومن یونیورسٹی بلوچستان کی ہزاروں بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہی ہے،بلوچستان مواقعوں کی سر زمین ہے اگر لوگوں کو یہ مواقعے فراہم ہوں تو بلوچستان دوسرے صوبوں کے برابر ہوگا۔ اپنی دور ملازمت کی شروعات میں انتظامی اورمعاشی مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہماری کوشش تھی کہ ہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے مطابق یونیورسٹی کو آگے لے جایا جائے، کیسز کی وجہ سے ایک ایسا وقت آیا کہ یونیورسٹی کو بند کرنا پڑا تاہم اب صورتحال پہلے سے بہتر ہے میڈیا ہماری بات معاشرے تک بہتر انداز میں پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس بی کے وومن یونیورسٹی میں صوبے کی10 ہزار طالبات بہترین اساتذہ کی زیر سایہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے یہاں سے نکلنے والی ہر لڑکی صوبے کی روایات، اسلامی طور پر معاشرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ صرف بلڈنگز بنانے سے ترقی ممکن نہیں بحیثیت وائس چانسلر بہت سے مشکلات ومسائل کاسامنا کیالیکن اب بہت سے مشکلات حل ہوئیں میں نے اپنے ٹینور میں یونیورسٹی کی بہتری کیلئے بہت سے کام کئے ہیں یہ کام میرے اکیلے کے بس کی بات نہیں یونیورسٹی اسٹاف اور عملے نے انتہائی محنت اور ایمانداری کے ساتھ میرا ساتھ دیا جس کی وجہ سے آج ادارے کو مالی وانتظامی مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوئی ہوں،انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے طالبات کے رزلٹس کامسئلہ ایک حد تک حل کردیاہے اس کے علاوہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کیلئے این او سی پر بھی کام جاری ہے،2013 سے 2020 تک جو ڈگریز جاری ہوئی ایچ ای سی ریکوگنائز نہیں کررہا جس کے بعد مارچ 2021 میں ہمیں 12 ڈیپارٹمنٹس میں ایم فل کیلئے این او سی جاری کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ رجسٹرار آفس کو ری سٹرکچر کرکے اس میں ایڈمن سیکشن،اسٹیبلشمنٹ واکیڈمک سیکشن،ہیومن ریسورسز مینجمنٹ سیکشن اور جنرل سیکشن بنایاہے تاکہ عام مسائل کے ساتھ سٹیشری باڈیز،چھٹیوں،پرفارمنس،پروگرامز وغیرہ کو دیکھاجائے یہاں کام کرنے والے ہر طرح کی ٹریننگ سے محروم تھے لیکن اب تمام عملے کو پالش کررہے ہیں اور ان کے صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ ہم نے ہمیشہ تنقید برائے اصلاح کو خوش آئند قراردیاہے اور منفی ہتھکنڈے اپنانے والوں کو اپنے مثبت اقدامات سے جواب دیاہے حالانکہ ہمارے خلاف سوشل میڈیا سمیت بہت سے فورمز پر منفی پروپیگنڈے کئے گئے،انہوں نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی میں صوبے کی رعایا کے برعکس ایک اسکینڈل سامنے آیا تھا لیکن میں نہیں چاہتی کہ یہاں بچیاں تعلیم کسی دباؤ میں حاصل کرے۔ ہم نے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ یونٹ قائم کیاہے،انتظامی اصلاحات میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کی تشکیل،ایس بی کے وومن یونیورسٹی رہائشی الاٹمنٹ کمیٹی،ایس بی کے وومن یونیورسٹی انسپکشن کمیٹی،ایس بی کے وومن یونیورسٹی کنٹریکٹ مینجمنٹ کمیٹی،طالبات اور عملے کیلئے آن لائن ہیلپ ڈیسک،ایس بی کے وومن یونیورسٹی انٹرن شپ،میڈیکل وہیلتھ پالیسی،حج،زیارت کی پالیسی تشکیل دی گئی ہے،انہوں نے کہاکہ ایم فل/ایم ایس /پی ایچ ڈی ڈگریز کی تھیسز کو دیر جمع کرانے کیلئے جرمانہ ختم کردیاگیا،ایس بی کے وومن یونیورسٹی آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کاافتتاح،سافٹ ویئر ہاؤس کاافتتاح کے علاوہ این او سی کے مسائل کے حل کیلئے ایچ ای سی کے چیئرمین سے معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی جس کے بعد ایچ ای سی کی جانب سے ہمیں 12ڈیپارٹمنٹس میں پی ایچ ڈی/ایم فل کیلئے این او سیز جاری کردئیے گئے،انہوں نے کہاکہ ایس بی کے وومن یونیورسٹی ماڈل سکول کوفعال،فارن کوالیفائیڈ پی ایچ ڈی کو پرنسپل کاچارج سونپا گیاجب میں نے چارج سنبھالا تو سابقہ پرنسپل کی جانب سے ہمیں کسی بھی طرح کا کوئی پراپرچارج یا کلیئرنس نہیں دیا گیا،تمام تر کنٹریکٹس پی پی آر اے رلوز کے مطابق دئیے گئے ہیں اس کے علاوہ بہت سے ایسی چیزیں ہیں جس کی تکمیل سے یونیورسٹی بہتری کی جانب گامزن ہے،یونیورسٹی میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں 4سال بعد سینڈکیٹ کااجلاس ہوا جس میں بہت سی پالیسیوں کو منظوری کیلئے پیش کی گئی ہے،یونیورسٹی میں بہت سے ملازمین جو سالوں سے پروموشن کاانتظار کررہے تھے انہیں پروموٹ کیاگیاہے پہلے مرحلے میں گریڈ ایک سے لیکرگریڈ11تک کی پروموشن کی گئی ہے جس کے بعد مزید گریڈ ز کی پروموشن پرکام کیاجائے گا،انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں،ہر ادارے میں کرائسز ہوتے ہیں تاہم مینجمنٹ پرمنحصر ہے کہ وہ ان کرائسز کاکیسے مقابلہ کرتے ہیں،ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت تشکیل کردہ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی میں میل،فی میل،فیکلٹی ممبرز،طالبات ہر کوئی شکایت کرسکتاہے حتی کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خلاف بھی شکایات درج کی جاسکتی ہے،سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے خلاف پروپیگنڈے سے متعلق ایف آئی اے کو رپورٹ دیدی ہے۔اس وقت بہت سے بچوں کی فیسیں رہتی ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ کسی بھی غریب بچی کی پیسوں کی وجہ سے تعلیم ادھوری نہیں رہنی چاہیے یونیورسٹی میں جتنے ڈینز کام کررہی ہے ان میں اکثریت کی پروموشن رکی ہوئی ہے اگر ان کی پروموشن وقت پر کردی جاتی تو آج یونیورسٹی کو ایم فل وپی ایچ ڈی کیلئے این او سیز کامسئلہ پیش نہ ہوتا،انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرشائستہ کے معاملے کو اچھالا گیا وہ 5سال سے کنٹریکٹ پرکام کررہی تھی اس وقت اسلامیات ڈیپارٹمنٹ میں تمام عملہ کورونا سے متاثر تھا جبکہ ہاسٹل میں ڈاکٹر شائستہ کے ساتھ خواتین بھی کورونا کاشکار تھیں،انہوں نے کہاکہ بھائی کراچی براستہ خضدار میں احتجاج کی وجہ سے دیر سے پہنچا،ہمیں کہاگیاکہ اس کی پوسٹ مارٹم کرینگے جس پر میں نے کہاکہ ڈاکٹرشائستہ کا بھائی آرہاہے اگر وہ پوسٹ مارٹم کی اجازت دیتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے تمام تر رپورٹس اور پولیس ریکارڈ موجود ہیں۔


