حکومت ارکان اسمبلی پر طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے انکی بات سنے اور مسائل کا پر امن حل نکالے،جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے حکومت اور پولیس کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے پر امن احتجاج کو مذاکرات کی بجائے طاقت کے استعمال سے سلب کرنے کے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ارکان اسمبلی پر طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے انکی بات سنے اور مسائل کا پر امن حل نکالے بلوچستان کی روایات اور ارکان اسمبلی کے استحقاق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے حالات کو کشیدیگی کی طرف لیکر جانے سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہو سکتاہے، یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان 12روز سے تھانے میں پرامن اور جمہوری احتجاج کر رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرتی اور مقدمہ ہونے کے بعد فور ی طور پر اسے واپس لے لیا جاتا مگر بلوچستان کی روایات کے بر عکس حکومت نے جس طرح صورتحال کو پیچیدہ بنایا اور اب اسے کشیدیگی کی طرف لیکر جارہا ہے یہ صوبے کے حق میں نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی انتشار اور افراتفری پھیلانے سے ملک و صوبے کا نقصان ہوگا بلوچستان میں حالات ایسے نہیں ہیں کہ صوبہ سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار رہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان بلخصوص اپوزیشن لیڈر کے ساتھ جس طرح رویہ رواں رکھا گیا وہ قابل مذمت ہے ایسے عمل سے حکومت نفرتوں کو ہوا دے رہی ہے جبکہ انتظامیہ اور پولیس اس غیر جمہوری عمل کا حصہ بننے کی بجائے معاملات میں افہام و تفہیم کامظاہرہ کرے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس عوام کی محافظ ہیں انکا منتخب ارکان کے ساتھ جارحانہ رویہ دیکھ پر عوام میں غم و غصہ کے جذبات پیدا ہورہے ہیں جو کہ کسی بھی بہتر عمل نہیں ہے پولیس کے اعلیٰ حکام بھی جارحانہ رویے کی بجائے اپوزیشن کے پر امن جمہوری احتجاج میں خلل نہ ڈالیں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو مزید ابتر ہونے سے بچانے کے لئے بامقصدر طور پر اپوزیشن سے مذاکرات کو بات چیت کرکے انکے مطالبات کو تسلیم کرے تاکہ سیاسی ماحول کو معمول پر لا یا جا سکے


