ثالثین ذگر مینگل کے فیصلے کو قدر واحترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے من و عن قبول کرتے ہیں،،سرداراسحاق مینگل
کوئٹہ: ذگر مینگل قبائل کے سربراہ سردار اسحاق خان مینگل،میر قمبر خان مینگل، سردارزادہ میر جہانزیب خان مینگل و دیگر معتبرین مینگل قبائل نے ثالثین سناڑی اسد اللہ صدوزئی،میر ضیاء اللہ لانگو کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف اسد اللہ صدوزئی عظیم بلوچ قومی روایات و بلوچی دستور سے مکمل ناواقف ہیں موصوف عرصہ درا ز سے ایک سیاسی کارکن ضروررہے ہیں مگر قبائلی دستورو رسم رواج سے حقیقی وابستگی کبھی نہیں رہی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثالثین سناڑی بھول گئے ان سے قبل سراوان معزز قدآورمعتبرین جن میں نواب محمد خان شاہوانی، سردارکمال خان بنگلزئی،میر کبیراحمد محمدشہی سناڑی قبیلے کے ثالث رہے اوراس خونی تصادم و تنازعہ اراضیات دشت گوران میں آن شخصایت نی بھر پورمخلصانہ کردار ادا کیا حبیب اللہ سناڑی نے اپنا اختیار ان سے واپس محض اس لئے لیا کہ سناڑی قبیلے کے فردواحد حبیب اللہ سناڑی اوراسکے ہمنواوں نے اپنے سابقہ ثالثین کو کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے اورمعزز ثالثین سے اپنا اختیار واپس لیکر معتبرین کی بے توقیری کی مگرہماری طرف سے جرگہ ثالثین روز اول سے نواب محمد اسلم خان رئیسانی،شہزادہ آغا موسیٰ جان،نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی رہی ہیں اور ہم اپنے عظیم قومی وقبائلی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں اپنا مکمل اختیار دیا تھا تنازعہ اراضیات دشت گوران کے بارے میں سراوان ہاوس کوئٹہ میں متعددبار جرگہ منعقد ہوا جس میں ممتاز دانشور انورساجدی،اسد اللہ صدوزئی نے ہمارے معتبرین سے مختلف سوالات کئے جن کے تسلی بخش جوابات انہیں ملے تمام دستاویزی و تاریخی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ سناڑی قبیلہ کے ذمہ داران و سفید ریش جن میں رئیس عبدالصمد سناڑی،آدم خان سناڑی،وڈیرہ محمد بخش سمیت دیگر نے سرداران ثالثین سناڑی و مینگل قبائل کے روبرو اقرارکیا اور50سے زائد سٹام پیپر بھی دکھائے کہ ہم سناڑی قبیلہ سینکڑوں سالوں سے مینگل قبائل کے بزگرف موروثی رہے ہیں اور مینگل قبائل کی ملکیت دشتگوران کی ہے ان تمام ثبوتوں کے باوجود خان آف قلات احمدزئی،ساسولی،محمد حسنی،رئیسانی،ہارونی جوکہ دشتگوران کے اطراف ملکیت کے مالک ہیں انہوں نے بھی لکھ کر دیا ہے کہ دشت گوران مینگل قبائل کی ملکیت رہی ہے اس کے باوجود ثالثین نے بار بارثالثین سناڑی کو وقتاً فوقتاً رابطے کئے کہ آئیں مل بیٹھ کر فصلہ کریں مگر ثالثین سناڑی بالخصوص اسد اللہ صدوزئی نے ہٹ دھرمی و بے زاری ظاہر کرتے ہوئے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا بعدازاں قبائلی روایات کے پیش نظر بلوچستان کے حقیقی معتبرین نے بنیادی نقطہ تنازعہ اراضیات پر اپنا فیصلہ صادر کیا جس کے ہم تہہ دل سے مشکور ہیں کہانہوں نے اراضیات کے تقاضوں کو پورا کیاانہوں نے کہا کہ اسد اللہ صدوزئی کے گزشتہ روز کے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں کہ موصوف نہ حقیقی بلوچستانی ہے اور نہ ہی عظیم بلوچی اقداروروایات سے واقفیت رکھتے ہیں ۔انہوں نے ثالثین مینگل کے فیصلے کو قدر واحترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے من و عن قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسکے باوجود مخالف قبیلہ سناڑی کے فردواحد حبیب اللہ سناڑی اور وانکے ہمنواؤں کی بے چینی و ہٹ دھرمی قابل مذمت ہے مخالفت ا مزاحمت کا اپنا شوق خوشی سے پورا کریں مینگل قبائل اپنی ملکیت کے دفاع کے پیش نظرپہلے سے زیادہ خون ناک اوردردناک ردعمل دینے کیلئی زہنی وعملی طور پرمکمل تیار ہے۔


