مکران میں اللہ نذر بااثر،براہمداغ کے پاس پانچ آدمی بھی نہیں، مذاکرات کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے، انوار الحق کاکڑ

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء وسینیٹرانوارالحق کاکڑ نے کہاہے کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کامسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے یہاں مختلف گروپس کام کررہے ہیں،ریاست کا بلوچستان کے معاملے پر ارادہ وزیراعظم کے بیان میں واضح ہورہاہے شاہ زین بگٹی سے بھی بہتر چوائس ہوسکتی تھی تاہم اس بارے فیصلہ عمران خان نے کہاہے کہ بات شخصیت کی نہیں بلکہ مسئلے کے حل کی ہے کوئی بھی مسئلے کے حل کیلئے کرداراداکرے گا تو بلوچستان کے لوگ ویلکم کرینگے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی کودئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان کے مسئلے پر ریاست کاارادہ عیاں ہورہاہے اور تمام ریاستی ادارے وہ بات کہناچاہ رہے ہیں جو وزیراعظم نے خود کہی بلوچستان کے سیاسی خیال میں لوگ یہ سمجھ رہے ہیں اور یہ تاثر ہے کہ مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ ہیں جو غلط ہے میں وضاحت اس حوالے سے دے رہاہوں کہ وزیراعظم کی زبان میں ریاست کا ارادہ واضح ہورہاہے بلوچستان میں کوئی مونولتک گروپ تو ہے نہیں کہ ان سے بات چیت کرکے جنگ ختم ہو یا جاری ہوں یہاں 8سے 10گروہ بنے ہوئے ہیں جو ساؤتھ مکران میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور اخترندیم جیسے لوگوں کا گروہ اثررکھتاہے یہاں براہمدغ بگٹی کے پاس شاید پانچ آدمی بھی نہ ہوں اگر براہمدغ بگٹی اگر واپس آجائے تو گوا در سے لیکر آواران تک اس کے کیااثرات مرتب ہوں گے یہ ہر بلوچستانی جانتاہے حربیار مری اوراس کا بھائی زامران مری دو الگ تنظیمیں چلارہے ہیں جس کامطلب کہ ہر بھائی کو الگ الگ راضی کرناہوگا جاوید مینگل کااپنا گروہ،براہمدغ کااپنا گروہ ہے یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں یہ پیچیدہ ہے انہوں نے کہاکہ شاہ زین بگٹی سے بھی بہتر چوائس ہوسکتی تھی لیکن فیصلہ عمران خان کاہے اگر وہ یہ سمجھتے ہیں یہاں تو ٹا سک زیادہ اہم ہے کوئی بھی کردارادا کرتے ہیں بلوچستان کے لوگ ویلکم کرینگے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کی صورتحال کودیکھاجائے تو وہ جگہ اب بلوچ عسکریت پسندوں کیلئے موزوں نہیں رہی وفاقی اداروں کے اضافے سے مسائل کم ہوں گے یا نہیں ہوں گے یہ کہناقبل از و قت ہے تاہم ایک ٹائم رکھاہے جس میں سی ٹی ڈی میں تین سے 4ہزار اسپیشلائزڈ ریکورٹمنٹ ہوگی تمام تر سہولیات سے مزین ہوگی کاؤنٹر وا نٹی ٹرارزم پولیس کے حوالے کی جائیگی اور ایف سی ساؤتھ اور نارتھ بارڈرکی طرف چلی جائیگی اور پولیسنگ پولیس محکمہ کے پاس چلی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں