چاغی، سیلابی ریلہ پاک ایران ریلوے پٹڑی 21مقامات سے بہا لے گیا

چاغی: دالبندین میں طوفانی بارش کے بعد سیلا بی ریلہ پاک ایران ریلوے ٹریک کو 21مقامات پر بہا لے گیا ٹریک کے بہہ جا نے کے بعد 2 مالبردار ٹرینوں کو روک دیا گیاہے۔ ریلوے حکام کے مطابق گزشتہ روز طوفانی آندھی کے ساتھ موسلدھار بارش نے ہر طرف تبائی مچا دی ایک طرف سینکڑوں کچی دیواریں اورچھتیں گر کر مہندم ہوگئے ہیں تو دوسری جا نب زمینداروں کے ٹیوب ویل پر نصب شمسی پلیٹس بھی طوفانی بارش کی نذر ہو گئے ہیں دالبندین میں تیس سے زائد بجلی کے کھمبوں کو طوفان نے زمین سے اکھاڑ دیا جس کے سبب دوسرے روز بھی دالبندین سمیت ضلع بھر میں بجلی کی سپلائی معطل ہے توہم بجلی کی بحالی کا کام زور شور سے جاری ہے۔دالبندین شہر سٹی ایریا اور کلی ہاشم خان، کلی باز محمد، قاسم خان سمیت متعدد کلیوں میں گلیوں کے نالے سمندر کا منظر پیش کررہے ہیں پیدل چلنے والوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے متعدد کلیوں میں بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوچکا ہے میونسپل کمیٹی اور سیوریج نظام کا بھی پول کھل گیاہے شہر میں ناقص منصوبہ بندی، سہولت کی عدم دستیابی پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت رات بھر پانی نکالتے رہے اے سی دالبندین محمد جاوید ڈومکی، ایس پی چاغی محمد انور بادینی رات بھر مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لیویز اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ لوگوں کی خیریت دریافت کرتے رہے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ضرورت مند لوگوں کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھامتاثرہ لوگوں کا کہناہے میونسپل کمیٹی طوفانی بارش کے بعد بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام نظر آتے رہے ادھر پاک ایران ریلوے ٹریک کو سیلابی ریلہ نے بری طرح بہہ کر لے گیا ریلوے حکام کے مطابق دالبندین تحصیل کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلہ نے 21 مقامات پر بری طرح متاثر کردیا ہے جسکی بحالی میں کافی وقت درکار ہوگا دو مالبردار ٹرین اس وقت روک دی گئی ایک مالبردار ٹرین چہتر کے قریب یادگار کے مقام پر پھنس گیا ہے اور ایک ٹرین تفتان سے کوئٹہ جارہی تھی اسے دالببندین اسٹیشن پر روک دیا ہے ابھی یہ اندازہ لگارہے ہیں کتنا کلو میٹر ٹریک کو پانی نے نقصان پہنچایا ہے تاہم ریل پٹڑی متاثر ہونے کی وجہ سے پاک ایران ریل سروس معطل ہیں اسسٹنٹ کمشنر دالبندین محمد جاوید ڈومکی کا کہنا ہے کافی تعداد میں لوگوں کے مکانات کے چتیں اور چار دیواریاں گر گئے کافی لوگوں کے مالی نقصان ہوا ہے ابتک طوفانی بارش سے دو افراد جان بحق جبکہ آٹھ زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے ابتدائی طور پر انھیں دالبندین ہسپتال میں طبی امداد دی گئی ہے ادھر چیئرمین سینٹ حاجی محمد صادق خان سنجرانی کے احکامات پر دالبندین میں انکے لوگ متحرک نظر آئے بی اے پی چاغی کے ضلعی صدر میر اسفندیارخان یار محمد زئی حاجی محمد صادق خان سنجرانی اور رخشان ڈویژن کے آرگنائزر میر اعجاز خان سنجرانی کے ہدایت پر دالبندین متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں کے ساتھ ہر قسم کی تعاون اور بروقت انکو سہولت دینے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں