سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی میرے لیے اعزاز کی بات ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل

کوئٹہ: چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور جج تعیناتی میرے لیے اعزاز کی بات ہے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مجھ پر جو اعتماد کیا گیا ہے میں اس پر پورا اترنے کی پوری کوشش کروں گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میرے دروازے سب کے لئے ہمہ وقت کھلے رہیں گے میں آئین کے تفویض کردہ اختیارات کے تحت عوام اور صوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا رہوں گا اس موقع پر تقریب میں عدالت عالیہ بلوچستان کے تمام ججز جناب جسٹس نعیم اختر افغان جناب جسٹس ہاشم خان کاکڑ جناب جسٹس محمد اعجاز خان سواتی جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل جناب جسٹس ظہیر الدین کاکڑ جناب جسٹس عبداللہ بلوچ جناب جسٹس روزی خان بڑیچ جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ، رجسٹرار بلوچستان ہائیکورٹ راشد محمود، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان،کوئٹہ بار کے صدر و سیکریٹری جنرل سمیت وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے تمام حاضرین بالخصوص کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور اس صوبے کی بقا صرف اور صرف اسی میں ہے کہ ہم اداروں کو مضبوط کریں اور ہر ادارہ اپنا کام کرے بار ایسوسی ایشن بھی ایک ادارہ ہے اس کے رول بنا دیے گئے ہیں بار کونسل کا رول بتا دیا گیا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے اسی طرح ڈسٹرک کورٹ کی ذمہ داریاں بتا دی گئی ہیں ہر ادارہ اگر اپنی حدود میں رہ کر کام کرے گا تو ہم یقیناً دیکھیں گے کہ ہمارا ملک اور ہمارا یہ صوبہ ترقی کرے گا اور اگر ہم اس کے برعکس کرتے ہیں اور دوسروں کے کاموں میں مداخلت کریں گے تو پھر اپنا بھی کام بھول جائیں گے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا تو میں آپ سے یہ یہ کہتا ہوں کے بار ایسوسی اسیشنز اور بار کونسل کو آپ مضبوط کریں اور بار کونسل اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے کہ جو آپ کے پاس قانونی اختیارات ہیں ان پر بار کونسل ایکٹ کے مطابق عملدرآمد کریں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس موقع پر ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا کہ جب میں نے بطور وکیل یہ سفر شروع کیا تو ہمیں اپنی سینئرز کی جانب سے بھرپور رہنمائی و آگاہی فراہم کی جاتی تھیں اور سینئرز کو اس دور میں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا بلوچستان کا بار پورے پاکستان میں سینئرز کی عزت و احترام کے حوالے سے ایک مثالی بار سمجھا جاتا تھا اب کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں تھوڑی بہت کمی دیکھنے میں آرہی ہے میری خواہش ہے کہ جونیئرز وکلاء ان روایات کو برقرار رکھے سینئرز اور بالخصوص خواتین وکلا کا احترام پہلے کی طرح مثالی ہونا چاہیے میری اس بار سے وابستگی ہے میں آج چیف جسٹس ہو تو اسی بار کی مرہون منت ہو جس پر ہم سب فخر کرتے ہیں سینئرز کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جونیئرز وکلا کی ہر طرح بالخصوص اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھنے کے حوالے سے رہنمائی کریں میں نے جوڈیشری کی ترقی و اصلاحات کے لئے جو بھی کام کیے ہیں وہ کسی کے لئے احسان کر کے نہیں کیے نہ ہی یہ کام اکیلے میں نے کیے ہیں یہ تمام اقدامات جو ہم نے اٹھائے ہیں ہر فیصلہ ججز کمیٹی کی منظوری سے کیا گیا ہے جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے اس حوالے سے قابل تحسین اقدام کئے ہیں ان اصلاحات میں سب ججز کا تعاون شامل رہا ہے یہ ہماری جانب سے پہلا قدم تھا جو یقیناً کامل نہیں ہے اور بہتری کے لیے کافی گنجائش موجود ہوتی ہے یہ سفر آئندہ بھی ایسا چلتا رہے گا نئے چیف جسٹس صاحب اس میں مزید بہتری لائیں گے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے خطاب میں خصوصی طور پر خواتین وکلاء سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کورٹ میں ان کی حاضری بہت کم دیکھی ہے جس کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے خواتین بھی معاشرے کا حصہ ہیں ان کی ہر سطح پر شراکت داری ضروری ہے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ہماری خواتین وکلاء بھی ہر سطح پر اپنی شراکت داری کو یقینی بنائے گی انہوں نے بار کونسل کے مسائل ممکنہ حد تک حل کرنیکی یقین دہانی بھی کرائی اور اس موقع پر بار کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی تقریب سے بلوچستان ہائی کورٹ کیمتوقع چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان نے بھی خطاب کیا انہوں نے بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عزت افزائی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء اور ججز کے درمیان ایک عزت کا رشتہ ہے جو کہ لازم و ملزوم ہے انہوں نے جناب چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے لئے ایک لیڈر کے طور پر تمام ٹیم کو ساتھ لے کر بہت خوبصورت و نمایاں کردار ادا کیا ہے اور میں پوری کوشش کروں گا کہ میں اپنے برادر ججز کے ساتھ مل کر اور وکلا کی مشاورت اور ان کی مدد سے آگے بڑھوں اور چیف جسٹس صاحب نے جن کاموں کو شروع کر رکھا ہے اور جو معاملات اور اصلاحات چل رہی ہیں ان کو آگے بڑھایا جائے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ میں پوری کوشش کروں گا کہ اپنی ٹیم کے ساتھ آپ سب کی توقعات پر پورا اتر سکوں۔ تقریب سے صدر کوئٹہ بار ایسوسی ایشن اقبال کاسی نے بھی خطاب کیا قبل ازیں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس جمال خان مندوخیل ضلع کچہری پہنچے تو پولیس کے چاک و چوبند دستے کی جانب سے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے لیڈیز بار روم کا بھی دورہ کیا اور خواتین وکلا سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں