مانگی اور شاہرگ واقعے کے خلاف ہرنائی میں پہیہ جام ہڑتال، ہرنائی کوئٹہ، ہرنائی پنجاب شاہراہ بند

ہرنائی(این این آئی)شہدائے وطن تحریک کی اپیل پر 21 مئی مانگی اور 26 مئی شاہرگ واقعہ کے خلاف ضلع ہرنائی میں پہہ جام ہڑتال ہرنائی کوئٹہ ،ہرنائی پنجاب قومی شاہراہوں اور دیہی علاقوں کو جانے والے تمام رابطہ سڑکوں پر مکمل پہہ جام ہڑتال رہی ۔ تفصیلات کے مطابق شہدائے وطن تحریک کی جانب سے 21 مئی کو مانگی میں نامعلوم افراد کی جانب سے ٹرکوں کو جلانے اور ماسٹر شین گل ترین کو اغواء کے بعد شہید کرنے اور 26 مئی کو شاہرگ شیخ موسی بابا چونگی کے مقام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پانچ افراد کے قتل اور چار افراد کو زخمی کرنے کے واقعات کے خلاف شہدائے وطن کمیٹی ہرنائی کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ مرحلہ وار جاری ہےتحریک کی جانب سے ہرنائی کے قومی شاہراہوں اور دیہی علاقوں کو جانے والے رابط سڑکوں کو احتجاجا پہہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے ہرنائی کوئٹہ،ہرنائی پنجاب قومی شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کردیا گیا پہہ جام ہڑتال کی وجہ سے ہرنائی آنے اور جانے والے مسافروں خصوصا خواتین بچوں مریضوں اور ضعف افراد کو شدید گرمی میں شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا شہدائے وطن تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ مانگی اور شاہرگ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرنے شہدائ کو سرکاری طورپر شہید ڈیکلیرکرنے اور جلائے گئے ٹرک مالکان کو معاضہ دینے کامطالبہ کیا انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا پر امن احتجاج مرحلہ وار جاری رہے گا جوکہ مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا شہدائے وطن تحریک نے صوبائی حکومت کی جانب سے اسمبلی اجلاس میں مانگی اور شاہرگ شہداءکےلئے فاتحہ خوانی نہ کرنے پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جھل مگسی اور سوئی کے واقعات پر وزیراعلی ازخود کھڑے ہوکر فاتحہ خوانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہے لیکن مانگی اور شاہرگ کے واقعات میں چھ بے گناہ افراد شہید ہوئے ہے ان کےلئے سب کے منہ پر تالے لگے ہوئے ہے جوکہ افسوسناک عمل ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں