وسیم تابش بلوچ کو ماورائے آئین و قانون لاپتہ ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا تاحال بازیاب نا ہوسکے ۔ بی ایس او پجار

بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کے وندر زون کے آرگنائزر وسیم تابش بلوچ کو 9 جون کو خضدار علی ہسپتال سے گرفتار کیا گیا جو بعد ازاں لاپتہ ہوگئے اب ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال ان کی بازیابی کیلئے نا تو ضلعی انتظامیہ نے کوئی کردار  ادا کیا اور نا ہی پولیس نے ۔ تابش ایک پرامن سیاسی کارکن ہے جو تنظیم کے ایک اہم اور ذمہدار عہدے پہ فائز ہے اور طلباء سیاست میں متحرک رہے لیکن ان کو ایسے ماورائے آئین و قانون گرفتار کرکے لاپتہ رکھنا پرامن طلباء اور ہر ایک سیاسی کارکن کے لئے باعث تشویش ہے ۔ 

ترجمان نے کہا کے لاپتہ کرکے ماورائے آئین و قانون گرفتاری کسی صورت قبول نہیں تابش ناصرف ایک ترقی پسند سیاسی کارکن ہے بلکے وہ شاعری اور ادبی اکیڈمیوں کا بھی ایک متحرک رکن ہے پرامن سیاسی ماحول کو خراب کرکے طلباء سیاست میں پھر سے ایک دفعہ انتشار کی جانب دھکیلنے کی سازش ہے تابش اگر کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل میں ملوث ہیں تو ان کو فوری عدالت میں پیش کرکے آئین و قانون کے مطابق سزا کا فیصلہ کرئے کسی فرد یا ادارے کو ماورائے آئین و قانون قبول نہیں کرتے ہیں تابش ایک آئینی شہری ہے اس کے ساتھ آئین کے مطابق پیش آیا جائے ۔ 

ترجمان نے کہا کے اگر تابش رہا نہیں ہوتے تو عید کے بعد احتجاجی تحریک کی کال دینگے جو بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں، ہائی ویز کو بلاک کرنے اور ہر ضلع بھوک ہڑتالی لگانے کا عمل شروع کرینگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں