آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تواسکے بھیانک نتائج کیلئے حکومت تیار رہے، غفور حیدری
لورالائی:جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے جے یو آئی کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر پوسٹل سروسزمولانا امیر زمان کی رہائشگاہ پر انکے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں آج ہونے والے الیکشن میں عمران خان نے گڑ بڑ اور دھاندلی کی کوشش کی تو پی ڈی ایم اسکے نتایج کو کسی صورت تسلیم نہیں کریگی بلکہ اسکے خلاف سڑکوں پر نکلی گی اور اسکے انتہا ئی بھیانک نتایج کیلئے حکومت تیار رہے ہم 2018 کے الیکشن میں ہونے والے دھاندلی کے نتایج ابھی تک بھگت رہے ہیں ملک مزید جمہوری الیکشنز میں مداخلت کی متحمل نہیں ہوسکتی پی ڈی ایم جلد حکومت کا تختہ پلٹنے کیلئے بھر پور عوامی تحریک شروع کرنے والی ہے ہم نے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک نازک ترین صورتحال کا شکار ہے اگر عمران خان نے بنی گالہ جانے کا فیصلہ نہ کیا تو پی ڈی ایم انکے لیئے غضب ناک ثابت ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت زد پر ڈٹی ہوئی ہے شرم کے مارے اب حکومت کو نہیں چھوڑ رہے لیکن انھیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہر صورت حکومت کو جانا ہوگا اسٹیبلشمنٹ کو حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جانا چا ہیے تو ہماری ان سے کوئی محاز آرائی نہیں ہوگی قوم پر مسلط حکومت سے نجات دلاکر قوم کا مزید استحصال نہیں کرنے دینگے انہوں نے کہا کہ 29 جولائی کو کراچی کا جلسہ ملکی صورتحال کو یکسر بدل دیگی الیکشن کمیشن پی ٹی ائی فارن فنڈنگ کیس کا جلد فیصلہ کرے کیونکہ اس کیس میں اسرائیل بھارت اور امریکہ نے عمران خان کی مالی سپورٹ کی ہے ہم اسے ضرور بے نقاب کرینگے انہوں نے کہا کہ کیس بھی انکے اپنے ایک بانی ممبر نے دائر کیا ہے اور کئی سال گذرنے کے بعد بھی اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن کیس کا ابھی کوئی فیصلہ کرے تو عمران خان ائین کے ارٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے زد میں آکر وزیر اعظم نہیں رہ سکتے انہوں نے کہا کہ نیب کو نہیں مانتے انکے نوٹسز کی کوئی حیثیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دو ہزار اٹھارہ کے فراڈ الیکشن کو اسی وقت ہم نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دیگر کو بھی کہا گیا کہ اسمبلی کا حلف نہ لو لیکن انہوں نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے حلف لیا جس پر ہمیں بھی مجبوری کے طور پر پھر حلف لینا پرا آج میاں نواز شریف نے ہمارے اس موقئف کی حمایت کی انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ جعلی فراڈ اور ناجائز الیکشن کی صورت میں اس حکومت کو غیر ائینی سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی ملک کے متفقہ ائین کے بجائے چین ایران اور ملائیشیا کے سسٹم سے متاثر ہیں اگر ہمارے حکمران اپنے آئین کو دل سے لگا تے ہوئے اسپر من وعن عمل کرتے تو ملک جمہوری قانونی اور آئینی طور پر دنیا اور قوم اسکی مثالیں دیتے انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو جمہوری طور پر مظبوط و مستحکم بنانے اور اسکی سالمیت و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں نااہل حکومت نے ملک کو نازک حالات سے دو چار کر دیا ہے آج ہماری سرحدیں محفوظ نہیں بھارت ہماری سرحدی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور ہم پر دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے دوڑ میں مصروف ہے اور ہم آج کہاں کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں نریندرمودی الیکشن جیت گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی مدد ملے گی لیکن انکے آنے کے بعد کشمیر کو انہوں نے باقاعدہ اپنا حصہ قرار دیکر ائینی طور پر اسے بھارت میں ضم کردیا آج وزیر اعظم کو جواب دینا چاہیے کہ اپکی مودی سے کیا ڈیل ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ ہم اپنے افواج کا احترام و عزت کرتے ہیں آئین میں طے کردہ حدود میں وہ کام کرے تو ہماری ان سے کوئی محاز ارائی نہیں ہم فوج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے پی ڈی ایم متحد اور ایک پیج پر ہیں تاہم اے این پی اور پی پی پی نے ضرور کسی قوت کے دباوٗ میں آکر اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا لیکن وہ ضرور ایک اپنے فیصلے پر نادم ہونگے انہوں نے کہا کہ ہمارے گزشتہ سال ہمارے لانگ مارچ کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ آج پی ڈی ایم کے کال پر پورے ملک میں عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم تمام اداروں کو آئین کے فریم ورک میں دیئے گئے اختیارات فراہم کرنے کے حق میں ہیں میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کے خلاف بھر پور آواز اٹھائینگے انھیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہونہ چاہیے اس موقع پر سابق وفاقی وزیر پوسٹل سروسز مولانا امیر زمان ضلعی امیر سابق وزیر مولانا فیض اللہ سمیت کثیر تعداد میں علماء و کارکنان موجود تھے۔


