بھاگ، حکومت کا پینے کے پانی کا منصوبہ کرپشن کی نظر، عوام سراپا احتجاج ہیں، بی ایس او پجار
بھاگ:بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے حوالے سے محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران نے ڈیرہ مراد جمالی تا بھاگ کچھی واٹرواٹر پلین اسکیم میں کروڑوں،اربوں روپے کے کر پشن سے اپنے ہاتھ صاف کیئے ہیں اتنے بڑے کر پشن میں ملوث ہونے کے باوجود آفیسران کیخلاف کاروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاترہے اتنی بڑی گنجان آبادی والے شہر جس کے پینے کے پانی کیلئے اربوں روپے کے میگا اورخطیر رقم خرچ ہوکر جوکہ مکمل طور میگاکرپشن کی نظر ہوگئے ہیں بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسلے کو ہمیشہ محکمہ پی ایچ ای سلجھانے کی بجائے ہمیشہ بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسلے کو الجھا دیا ہے محکمہ پی ایچ ای بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسلے کو کبھی بھی نہ تو سنجیدہ لیا ہے اور نہ ہی اس کو حل کرنے کی کوشش بھی کی ہے محکمہ پی ایچ ای بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسلے پر کروڑوں،اربوں روپے کے میگاکرپشن میں آفیسران نے اپنے ہاتھ صاف کیئے ہیں کچھی واٹر پلین اسکیم ڈیرہ مراد جمالی تا بھاگ ہو یا پھر سنی واٹر سپلائی لائن اورشوران واٹرسپلائی ہو آفیسران کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہاہے کہ وہ کروڑوں،اربوں روپے کے کرپشن میں ملوث رہے ہیں کروڑوں،اربوں روپے کا خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی اگر بھاگ شہر کے عوام کو پینے کا پانی نہ ملے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کرپشن اوراقربا پروری کی واضح دلیل اور ثبوت ہیں کچھی واٹر پلین اسکیم ڈیرہ مرادجمالی تا بھاگ چاہے فیز ون ہو یا چاہے فیزٹو ہوصرف ٹھکیدار اورکچھی واٹر پلین کے آفیسران کی ملی بھگت سے نمائشی طورپر پانی کو اسٹور کرنے کیلئے نیشنل ہائی وے روڈ پرلمجی(لینڈسے)،بالاناڑی، گاموں، چندڑ، پیرشیرشاہ اور دیگر مقامات پر پانی کو اسٹور کرنے کیلئے جو ٹینکیاں بنارہے ہیں وہ سوائے شوپیس اور کرپشن کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے ان میں بھی ٹھکیدار اور محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران کیساتھ ملکر ان کی ملی بھگت سے ناقص میٹریل کا استعمال کررہے ہیں اور عوام کے نام پر آنے والے کروڑوں روپے ضیائع ہونے کا خدشہ ہے جس طرح بھاگ شہر سمیت دیگر علاقوں کے پینے کے پانی کے مسلے کو عرصہ دراز سے دبایا جارہاہے اسی طرح اب بھی اس مسلے کو سرد خانے میں ڈال کر کرپشن کی نظر ہوجائیگا حالانکہ بھاگ شہر تحصیل بھاگ کے عوام کا باربار نیب سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران فیزون اور فیزٹو کے آفیسران اور ٹھکیداران کروڑوں روپے کے کرپشن میں ملوث ہیں ان کیخلاف بلاتفریق تحقیقات کرکے ان کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے۔بی ایس او پجار بھاگ زون کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسئلے پر محکمہ پی ایچ ای نے نت نئے ہربے استعمال کررہے ہیں محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران اور اپنے ٹھیکیداروں کے ذریعے اپنے حق میں بیان لگوانے اور اجلاس منعقد کرانے اور اپنے حمایت میں آفیسران کو خریدنے تک کے انکشافات ہوئے ہیں اورہر آفیسر کرپشن میں اپنا حصہ لیکر بھاگ شہر کے پینے کے پانی کے مسئلے کو دبانا چاہتے ہیں محکمہ پی ایچ ای کچھی واٹر پلین اسکیم ڈیرہ مراد جمالی تا بھاگ کے آفیسران کے ہاتھ میگا کرپشن میں رنگین ہیں جس میں کروڑوں،اربوں روپے کے کرپشن میں آفیسران ملوث ہیں خود بھی کرپشن کرتے ہیں اور آفیسران کو بھی لاکھوں روپے کھلاتے ہیں باقاعدہ محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران دوسرے آفیسران کو بھی ان کا حصہ دیتے ہیں اس وجہ سے تو محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران کیخلاف موثر کاروائی نہیں کی جاتی ہے کروڑوں روپے کے کرپشن میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کرلیتے ہیں محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران خود بھی کھاتے ہیں اور دوسرے آفیسران کو بھی کھلاتے ہیں کچھی واٹر پلین اسکیم ڈیرہ مراد جمالی تا بھاگ،سنی واٹرسپلائی اسکیم اور شوران واٹر سپلائی اسکیم کے آفیسران اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف جب تک موثر اور عملی کاروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک یہ محکمہ پی ایچ ای والے ہرگز عوام کو پینے کا پانی فراہم نہیں کرینگے محکمہ پی ایچ ای کے نااہل اور کرپٹ آفیسران جس کسی کیساتھ بھی ملیں اور اپنے حق میں میٹنگ اجلاس کرائیں لیکن ان کے کرپشن اور عوام دشمن رویے کیخلاف ہرگز خاموشی اختیار نہیں کیاجائیگا بی ایس او(پجار)کرپٹ محکمہ پی ایچ ای کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے عوام دشمن ہربوں سے باز آجائے اور دیگر آفیسران کے ضمیر کو بے شک خریدے لیکن ہم ان کیخلاف ہرگز خاموشی اختیار نہیں کرینگے بی ایس او کے ترجمان مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ پی ایچ ای کے کیخلاف کاروائی عمل میں لاکر اعلی سطح کی تحقیقات کرکے ان کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔


