سوراب،بارڈر بندش کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کی کال پر موٹر سائیکل ریلی
سوراب:بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کی مرکزی کال پر بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ڈسٹرکٹ سوراب میں بھی بارڈر بندش،بے روزگاری اور منشیات جیسے لعنت کے خلاف گدر،جیوا،ماراپ،دشت گوران،سوراب سے بی این پی عوامی کے ورکروں نے ہزاروں کی تعداد میں ایک موٹرسائیکل ریلی نکالی گئی،ضلعی سطح پر ریلی کی قیادت بی این پی عوامی کے ضلعی صدر میر علی اکبر گرگناڑی نے کی ریلی سوراب بازار سے ہوتے ہوئے نغاڑ چوک پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر لی شرکا سے ضلعی صدر میر علی اکبر گرگناڑی،حاجی عبدالرسول مینگل،عبدالروف ریکی،انجینئر محمد یوسف میروانی،ڈاکٹر عبدالوحید لانگو،عبدالوہاب عمرانی،امان اللہ ریکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں کا واحد کاروبار بارڈر سے منسلک ہے بارڈر کی بندش سے لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ پورے پاکستان میں بے روزگاری اور غربت کی شرح میں بلوچستان آگے ہے۔گیس بجلی لکڑی آٹا اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی غیریقینی اور غربت کی وجہ سے غریب عوام کی دسترس سے دور ہیں۔ایک طرف صوبے کی عوام غربت کی عذاب میں مبتلا ہے دوسری جانب بدترین بیروزگاری کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر ہے۔ روزبروز غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے زندگی اجیبرن بنتی جارہی ہے۔مختلف قسم کی واقعات و حادثات سے یہ فضا ہمیشہ آفسردہ رہتی ہے۔بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اب تک بہت سی دیہات زندگی کے ہر طرح کی سہولیات سے محروم اور مسائل میں گھیرے ہوئے پسماندہ رہتے ہیں۔اور بارڈر بندش کے سبب مشکلات و مسائل میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے حکومت کو عوام کے جان و مال اور روزگار سے کوئی سروکار نہیں بارڈر بندش کے سبب ابھی تک سینکڑوں لوگ بیروزگار ہوچکے جبکہ ہمارے حکمران اپنی سیل سپاٹا میں لگے ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ بلوچستان میں روزگاری کے حوالے سے کوئی مناسب اعلان کرے تاکہ ہمارے لوگ اپنے خاندان کے ساتھ بہتر زندگی بسر کر سکے لیکن ہمارے عوام کو دھوکے میں رکھ کر صرف اپنے سیاسی دورے کرنے پر صوبائی و وفاقی وزرا مصروف ہیں اور دوسری جانب سوراب کے آس پاس کے علاقوں میں منشیات فروشی سرے عام جاری ہے اس پر ضلعی انتظامیہ کی خاموشی کچھ لو اور کچھ دو کا اشارہ دے رہا ہیں اگر ایسا نہیں تو گزشتہ روز منشیات کے خلاف ریلی سے علاقائی باشندہ حاجی علی اصغر نے گدر میں منشیات کے اڈوں کی بھی نشاندہی کی پھر بھی آپ خاموش رینگے تو سوراب کے ہر شہری کے ذہن میں سوال پیدا ہونگے اور آخر میں گزشتہ دنوں پنجگور میں معصوم بچہ عبدالقدیر کی قتل کی مذمت بھی کی اس موقع اسٹیج سیکریٹری کے فرائض بشیر احمد گرگناڑی نے سرانجام دیئے جبکہ جلسہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سوراب کے رہنما حاجی مقبول جان گرگناڑی،میر محمد افضل ریکی عرف شاجی،،میر قادر بخش ریکی،محبوب جان،میر محبوب علی زہری،میرمحمد حیات ریکی، حاجی بابل لہڑی نزیر زیب مینگل،سلام عمرانی،عبدالرشید محمدزی،میر عید محمد ھارونی،ماسٹر خان جان،میر کریم ریکی،خلیل جان میروانی،نوجوان اتحاد گدر مرکزی چیئرمین ظفر بلوچ،امان اللہ نیچاری، میر طارق رودینی،میر مظفر جان، حاجی غلام نبی،علی محمد زھری،سیف ھنینا ساسولی،حاجی یحی میروانی ایوب جان ملازی،عبدالنبی زھری،میر ضیا ریکی،ڈاکٹر سعید میروانی،میر مبارک میروانی،حبیب رودینی،عبدالواحد محمدزی،ٹکری کریم جنگی زی،یوسف جنگی زی،محمد اشرف جنگی زئی،حاجی سیف اللہ مینگل،منیر احمد مینگل،میر زوالفقار گرگ،میر خلیل جان،ماما خیر جان ملازی،شاجی امان اللہ ریکی،میر ظفر سناڑی،میر انور ھارونی،میر نوردین ھارونی،حافظ طاھر ھارونی،میر عبدالقادر گرگ،میر صغیر ملازی،محمد کریم عمرانی،عنایت رودینی،عبداللہ ہارونی،میر نادر جان،شبیر شیخ محمد جان حسنی،گل خان،طارق نصر اللہ، ٹکری نصراللہ سمالانی، شہباز خان سمالانی،میر تاجل سمالانی،بابو شہباز گرگ،عزیز مینگل فارم،میر غفور ساسولی،حکیم بادینی،لعل بخش بلوچ،میر اصغر گرگ،ملک عبداللہ سمیت ہزاروں کی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔


