اشرف غنی، وزرا، مشیروں، جرنیلوں سے کوئی دشمنی نہیں‘واپس آسکتے ہیں‘خلیل الرحمن حقانی
کابل: افغان طالبان کے رہنما خلیل الرحمان حقانی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی ملک چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے، جن لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کی تھی ان سب کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا ہے‘قومی حکومت بنانے کیلیے تمام سیاسی قیادت کے ساتھ مشارت جاری ہے، ہمارا پروگرام ہے کہ افغانستان کو درپیش مشکلات اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے، ہمیں تمام مکاتب فکر کے علما اور مشائخ کا مکمل تعاون حاصل ہے‘افغانستان کی عسکری قیادت، اہلکار او رپولیس ملازمتوں پر واپس آئے، آج کے بعد افغانستان میں جنگ اور خون ریزی کا کھیل ختم ہوگیا۔ افغان طالبان کے رہنما خلیل الرحمان حقانی نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویوزمیں کہا کہ عظیم فتح پر عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہم افغانستان میں امن اور صلح کا پیغام لے کر آئے ہیں، اشرف غنی، ان کے وزرا، مشیروں، فوج کے جرنیلوں سے کوئی دشمنی نہیں، یہ تمام افراد افغانستان واپس آسکتے ہیں۔خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ قومی حکومت بنانے کیلئے تمام سیاسی قیادت کے ساتھ مشارت جاری ہے، ہمارا پروگرام ہے کہ افغانستان کو درپیش مشکلات اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے، ہمیں تمام مکاتب فکر کے علما اور مشائخ کا مکمل تعاون حاصل ہے، ہمارے ساتھ تعلیم یافتہ افراد، طلبہ، ڈاکٹرز،پروفیسر شامل ہیں، افغانستان میں قیام امن کیلیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امارت اسلامی کے قیام کا اعلان کیا ہے، جب ہم کابل آ ئے تو حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات ہوئی، حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ڈرے ہوئے تھے اور ملک چھوڑنا چاہتے تھے، دونوں رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی اور حوصلہ دیا کہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، کسی کو بھی ملک چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔رہنما افغان طالبان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کی تھی ان سب کیلیے بھی عام معافی کا اعلان کیا ہے، افغانستان کی عسکری قیادت، اہلکار او رپولیس ملازمتوں پر واپس آئے، آج کے بعد افغانستان میں جنگ اور خون ریزی کا کھیل ختم ہوگیا، عالمی میڈیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں لوگوں میں خوف پیدا نہ کریں، ہم نے دشمن کو سیاسی اور جنگی میدان میں شکست دی ہے۔


