ہمیں اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا ہو گا،جعفر مندوخیل
کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء وسابق صوبائی وزیر شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہاہے کہ پشتونوں کے آپس میں اختلافات نہیں بلکہ ہم پر جنگ مسلط کیاگیاہے،حکمرانوں کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ وہ لواحقین سے بات بھی نہیں کرسکتے،تمام تر مسائل کاادراک کرتے ہوئے سیاست،مفادات اور اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد واتفاق کامظاہرہ کرناہوگا، وہ پشتون جو چند ہزار کالشکر لیکر دہلی کوفتح کرتے تھے آج خود مسائل میں گھیرا ہواہے،آج سراپااحتجاج شہداء کے لواحقین پشتونوں کے خون کا جاری سلسلہ بند کرنے کیلئے میتوں کے ہمراہ بیٹھے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے زیارت مانگی ڈیم شہداء کے لواحقین کی جانب سے جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شیخ جعفرمندوخیل نے کہاکہ سانحہ مانگی ڈیم کیوں رونما ہوا اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا 10روز سے شہداء کے لواحقین میتوں کے ہمراہ سراپااحتجاج ہیں اس طرح کے واقعات سے نفرت میں اضافہ ہوگا ایسے واقعات کیوں پشتونوں کے ساتھ رونما ہورہے ہیں،ایک طرف بھی پشتون دوسری طرف بھی پشتون بدقسمتی سے اگر ہم اپنے لئے آواز بلند کرینگے تو پھر ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوگی پشتونوں کے ساتھ جاری ناانصافی کااختتام اتحاد واتفاق سے ہوگا انہوں نے کہاکہ دوسرے قوم ہمیشہ غلام رہے ہیں یہاں حکمران ہمیشہ سے پشتون رہاہے دہلی پر بھی پشتونوں کی حکمرانی تھی چند ہزارلوگوں کے ذریعے دہلی کو فتح کیاجاتاتھا لیکن آج کیوں افغانستان ہوں یاپھر پاکستان پشتون طاقت میں ہونے کے باوجود پشتونوں ہی کا خون بہہ رہاہے ہمیں تمام مسائل کاادراک کرناہوگا اور اس کیلئے آپس میں اتحاد پیدا کرناہوگی سیاست اور مفادات سے بالاتر ہوکر پشتونوں کیلئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا جب پنجاب میں ایک دھماکہ ہوا تو پورے لاہور سے پشتونوں کو نکال رہے تھے پشتونوں میں ہر دن دھماکے ہوتے ہیں زیارت میں ایف سی سیکورٹی فراہم کرنے کی بجائے لیویز اہلکاروں کو بھیجاجارہاہے یہ سوالیہ نشان ہے؟ انہوں نے کہاکہ آج جوسلسلہ جاری ہے اس کامقصد پشتونوں کو غلام بنانا ہے ہمیں اس زیر عتاب سے خود کونکالنا ہوگا اپنے لئے اٹھناہوگا کب تک پشتون قوم جنازے اٹھاتے رہیں گے،انہوں نے کہاکہ 12کروڑ آبادی میں کوئی شہید نہیں لیکن ڈیڑھ کروڑ آبادی والے ہر دن شہداء دے رہے ہیں افغانستان ہوں یا پاکستان صرف پشتون ان مظالم کانشانہ بن رہاہے زیارت میں لوگوں کو لڑایاگیا حالانکہ زیارت میں اچھے لوگ ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ لوگ آپس میں لڑائیں ہمیں ایسے مسائل کاادراک کرناہوگا آپس کے اختلافات کوپس پشت ڈال کرآگے بڑھ کر ایسے مسائل کاخاتمہ اور تکالیف کامداوا کرناہوگا۔آج 10روز گزرنے کو ہوں لیکن کسی میں اتنی غیرت نہیں کہ وہ آئے اور بات کرے شہداء کو زندہ نہیں کیاجاسکتا جن لوگوں نے قربانی دی ہے لواحقین نے اس سلسلے کی بندش کیلئے اپنے پیاروں کی لاشیں رکھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پشتونوں کے آپس میں اختلافات نہیں بلکہ ہم پر جنگ مسلط کیاگیاہے۔


