صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کو مافیا سے پاک کرکے فعال ادارے بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطاق صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے اور غریب عوام تک صحت کی بنیادی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے نام پہ مافیا کا روپ دھارے اس ٹولے سے ہسپتالوں کو پاک کرنا ہے،صوبے کے سب سے بڑے ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی تبائی کی ایک بنیادی وجہ ان مافیاز کو کھلی چھوٹ دینا بھی ہے،ہسپتالوں کے ڈیسپوزیبل ویسٹ کا جان لیوا کاروبار ہو، غیرقانونی پارکنگز ہو یا پھر ناجائز قبضے ہوان مافیاز کا کردار ہمیشہ ہی نمایاں رہا ہے،یہ مافیاز غیر قانونی طور پر کیڈر تبدیل کرکے اپنے من پسند گریڈز میں ڈیوٹیز دیئے بنا تنخواہیں بٹور رہے ہیں جس کی انکوائری رپورٹ تاحال ڈائیریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز (DG Health) میں موجود ہے،جس میں ان مافیاز کے سول ہسپتال کا صدر جوکہ بطور وارڈ بوائے تعینات ہوکر گریڈ 10 تک غیر قانونی طور پر ترقی پا چکا ہے سرفہرست ہے،سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق موٹرسائیکل و سائیکل کے اسٹینڈز پر پابندی عائد کی گئی ہے مگر عدالتی فیصلے کے برخلاف یہ مافیا پچھلے 5 سال سے سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں نہ صرف موٹر سائیکل اسٹینڈز چلارہے ہیں بلکہ باقاعدہ پیسے بٹور رہے ہیں،صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں گوسٹ ملازمین کی سرپرستی اور اس کے عوض ان گوسٹ ملازمین سے ماہانہ بھتہ وصولی میں بھی یہ مافیا کھلے عام ملوث ہیں،یہی نہیں کورونا وائرس کی موجودہ وبائی صورتحال میں بھی ان مافیاز نے کورونا ویکسینیشن کو کمائی کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے عوام سے پیسے لیکر بنا ویکسین لگائے ویکسین کارڈز کی فراہمی میں بھی ان مافیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہیں،ترجمان نے کہا کہ صوبے ان ٹرشری کیئر ہسپتالوں کے گائنی لیبر رومز میں مریضوں کے لواحقین سے روزانہ کی بنیادوں پر پیسے بٹورنے میں بھی یہی مافیا ملوث ہے،ترجمان نے کہا کہ ان مافیاز کا صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں اس کے ساتھ ساتھ اور بھی مختلف قسم کی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،ترجمان نے مذید کہا کہ ہیلتھ ریفارمز کا ڈھونگ رچانے والے نااہل محکمہ صحت کے نااہل ترین سیکریٹریز ان تمام تر حقائق سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود بھی کسی بھی محکمانہ کاروائی سے قاصر ہیں جوکہ صوبے کے ہیلتھ سسٹم کی تباہی میں ان کا مجرمانہ کردار واضع کرتی ہیں،ترجمان نے واضع کیا کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں سے ان مافیاز کے مکمل خاتمے اور صوبے کے دور دراز علاقوں سے ان سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنے والی غریب عوام تک صحت کی بنیادی سہولیات بہم پہنچانے تک جدوجہد کرتے رہیں گے،ترجمان نے وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی سیکریٹرز صحت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ویکسینیشن سینٹر میں ڈاکٹر و دیگر سرکاری عملے پر حملہ آور کے بعد ان کے خلاف درج ہونے والی ایف-آئی-آر پر فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں فی الفور گرفتار کرکے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جوکہ آزادانہ طور پر صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ان کے بھیانک کردار کو سامنے لائیں تاکہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں سے اس ناسور کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں