مخلص ساتھی اور دوست جام کمال سے ناراض ہو رہے ہیں، عبدالکریم نوشیروانی

کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر وسابق صوبائی وزیر میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہاہے کہ بدقسمتی سے ملک کی سالمیت،بقاء سے وفادار لوگوں کی قدر نہیں کی جاتی،تحفظات اور خدشات کے باعث مخلص ساتھی اور دوست جام کمال سے ناراض ہورہے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان کے ارگردموسمی پرندے اکھٹے ہیں اور یہی غیر جمہوری لوگ مفادات کی تکمیل کے بعد شاہین کی طرح اڑھ جائیں گے،ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیاہے جام کمال کو چاہیے کہ وہ پارٹی سے مخلص لوگوں اور مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے ساتھ مضبوط روابط رکھیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کومطمئن کرے اور ان کے جائز مطالبات کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں،اس وقت بی اے پی اس وقت بلوچستان میں مخلوط حکومت کررہی ہے مخلوط حکومت میں بحیثیت سینئر سیاست وزیراعلیٰ بلوچستان کو چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں کے تحفظات دور کریں ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیاہے بلوچستان کے محب وطن،صوبے،ملک اور عوام کے ساتھ مخلص لوگوں پر زیادہ توجہ دی جائے جن کی زبان پر پاکستان کانام اور دیگر تعلقات صرف مفادات تک ہوں وہ کبھی بھی آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے آج آپ کے آس پاس غیر سیاسی لوگ کبھی بھی بہترمشورہ نہیں دے سکتے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے غیر سیاسی لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ حکومت کو کس طرح چلایاجائے بحیثیت بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر سیاست دان میں نے خضدار میں بھٹو کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کیاتھا بھٹو کو کہاتھاکہ میں خاران کا طلباء ونگ کا صدر تھا جب بھٹو 77میں،میں نے انہیں مشورہ دیاتھا اگر آپ بلوچستان اور پاکستان میں جمہوریت چاہتے ہیں تو آپ کو عام لوگوں،سیاست سے باخبر لوگوں کو آگے لانا ہوگا وہ آپ کو صحیح مشورہ اور راستہ دکھائیں گے تو بھٹو نے مان لیا اور صابر بلوچ،رحیم بلوچ کوآگے لایااور سندھ میں وڈیرہ شاہی اورنظام کو ختم کردیا ہر صوبے کا الگ نظام ہے آپ نے پاکستان کو دشمنوں سے بچاناہے جام کمال کو مشورہ ہے کہ آپ کے اردگرد غیر جمہوری لوگ اپنے مفادات تک آپ کے ساتھ موجود ہیں جیسے ہی مفادات پورے ہوگئے اور آپ کا مدت وزارت پورا ہوگا تو یہ موسمی پرندے شاہین کی طرح اڑ جائیں گے اور کبھی آپ کو شکل دکھائیں گے تو آپ پہچان بھی نہیں سکیں گے۔انہوں نے کہاکہ جام کمال کی بدقسمتی ہے کہ وہ سیاسی اور مخلص لوگوں کو اپنے قریب نہیں چھوڑتا مجھ جیسے سیاسی کارکنوں کو گھر پربیٹھایاگیاہے لوگ ناراض اس لئے ناراض ہوتے ہیں جام صاحب کوچاہیے کہ وہ انہیں اپنے قریب رکھیں۔میں جام کمال کے والد صاحب کومشورے دئیے آج جام صاحب میرا فون اٹھانے سے کتراتا ہے لیکن میں کہتاہوں کہ جام کمال ہمارا محسن اور پارٹی سربراہ ہے بحیثیت مخلص کارکن مشورہ ہے کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیاہے اگر آئندہ پارٹی کو فعال رکھناہے تو سیاسی میدان میں رہناہے تو اپنے مخلص ساتھیوں کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کو اپنے قریب لائیں ان کے تحفظات ختم کریں۔انہوں نے کہاکہ میں پاکستان اس کی سالمیت اور بقاء کا وفادار ہوں بدقسمتی سے یہاں وفادار لوگوں کا قدر نہیں نواب ثناء اللہ زہری اور جنرل عبدالقادربلوچ نے مجھے بلایاتھا لیکن میں نے انکار کیاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں