ایم ٹی آئی کا کالا قانون یکسر مسترد کرتے ہیں،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ نے کہا ہے کہ ایم ٹی آئی کے کالے قانون یکسر مسترد کرتے ہیں، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کا بغیر کسی منصوبہ بندی کے سنڈیمن پروانشل ہسپتال سے شیخ خلیفہ بن زائد ہسپتال منتقلی کسی صورت قابل قبول نہیں، صحت کے نظام اور ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے میں سیکرٹریز کی عدم دلچسپی حکومت غیر سنجیدہ، ڈاکٹرو کے درینہ مساہل جوں کے توں، مسائل کے حل کیلئے سیکرٹریز صحت سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کی جائے گی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان یں ترجمان نے کہا کہ پیر کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی کابینہ اور وائی ڈی اے سپریم کونسل کا ایک مشترکہ اجلاس ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی صدر ڈاکٹر احمد عباس کی صدارت میں وائی ڈی اے سنڈیمن پروانشل ہسپتال کے صوبائی آفس میں منعقد ہوا، اجلاس میں وائی ڈی اے سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر یاسر خان اچکزئی، سپریم کونسل کے سنیر ڈاکٹرز، جنرل سیکرٹری وائی ڈی اے بلوچستان ڈاکٹر مالک کاکڑ اور دیگر عہدیداران و ایگزیکٹیو ممبران نے شرکت کی، اجلاس کا باقاعدہ اغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اجلاس میں کئی اہم موضوع زیربحث آئے، اجلاس کے اغاز میں ہی تمام شرکہ نے ایم ٹی آئی کے کالے قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں اس کالے قانون کی اطلاق کی نہ صرف پرزور مزمت کی بلکہ اس کیخلاف ہر فورم پر مزاحمت کا پختہ ارادہ کیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ایم ٹی آئی کے کالے قانون کے نفاذ میں نااہل سیکرٹریز اور بیساختہ حکومت کی معاونت کرنے والے تمام ڈاکٹرز حضرات، شعبہ صحت سے منسلک یونین اور دیگر افراد کیخلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،اجلاس میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کا بغیر کسی منصوبہ بندی کے سنڈیمن پروانشل ہسپتال سے شیخ خلیفہ بن زائد ہسپتال منتقلی کو مضحکہ خیز اور نااہلی کا واضح ثبوت قرار دیا، اجلاس میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی منتقلی کو مندرجہ ذیل مسائل کے حل کیساتھ مشروط کیا گیا، ایڈہاک پر تعینات کئے گئے اے پی/ایس آر کو فلفور مستقل بنیادو پر تعینات کیا جائے، پی جی ایم آئی میں کام کرنے والے تمام تر پی جی/ ایس آر/ ایپی ڈاکٹرز کو پیکج دیا جائے، آیندہ کیلئے ایس آر/اے پی کی تعیناتی سے قبل آسامیوں کا اجراء کیا جائے، شیخ زاہد ہسپتال کی پاکستان میڈیکل کمیشن اور سی پی ایس پی سے ترجیح بنیادوں پر تصدیق کرائی جائے، پی جی ایم ائی میں کام کرنے والے تمام 600 ٹرینی میڈیکل آفیسر کو ترجیح بنیادوں پر ان کے متعلقہ ہسپتالوں میں تعینات کیا جائے ٹرانسفر کئے گئے ڈاکٹرز کی تنخواہ کا اجراء کیا جائے، ڈاگٹرو کی جائز پروموشن میں حاہل مسائل کو ایمرجنسی بنیادوں پر دور کیا جائے،شیخ زائد ہسپتال میں موجود پی جی ایم ائی کے دو کمروں کو جلد از جلد بلدینگ کی شکل دی جائے اجلاس میں صوبے بھر کے صحت کہ نظام کو ناقص کرار دیتے ہوئے نااہل سیکرٹریز اور تبدیلی کی دعویدار سرکار سے صوبے بھر میں صحت کے نظام اور ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا، ڈاکٹرو کو درپیش درینہ مساہل سننے اور انکا حل نکالنے کا مطالبہ کیا، اسی سلسلے میں سیکریٹریز صحت سے ملاقات کا بھی عزم کیا گیااجلاس کے اخر میں صدر وائی ڈی اے بلوچستان نے سیکریٹریز صحت اور حکومت بلوچستان کو ایک ہفتے کی خطیر مہلت دیتے ہوئے مندرجہ بالا مسائل کا حل تلاش کرنے کی اپیل کی، ایک ہفتے میں مسائلِ کا حل نہ نکالا گیا تو 28 ستمبر کے بعد صوبہ بھر کے ڈاکٹرز کا ایک جنرل باڈی میٹنگ بلایا کیا جائے گا جس میں ائندہ کا احتجاجی لائعمل ترتیب دے کر سڑکوں کا رخ کرنے پر مشاورت لی جائے گی


