کوئٹہ میں طلباء کے احتجاج پر لاٹھی جارچ تعلیم دشمن پالیسی ہے، بی ایس او پجار

اوتھل:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار اوتھل زون اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے گزشتہ روز ارمابیل پریس کلب اوتھل میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی کے آن لائن ٹیسٹ کیخلاف کوئٹہ میں پر امن احتجاج کرنیوالے طلبا اور طالبات کو کوئٹہ پولیس کیجانب سے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،بلوچستان بھر میں پرامن احتجاج ہورے ہیں جس میں بلوچستان کی سب طلبا تنظیموں نے شدید الفاظوں میں مزاحمت بھی اور یکساں طور پر بھی ان احتجاجی مظاہروں میں ایک صفحہ پر موجود رہی،گزشتہ روز کوئٹہ میں اجتجاجی مظاہرے میں بلوچ طلبا پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا جن میں بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ،مرکزی ممبر ادریس بلوچ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اورنگزیب انفارمیشن سیکرٹری،جیہند سینیئر جوائنٹ سیکریٹری، شمس مرکزی ممبر،حسیب مرکزی ممبر،حکمت غفار،ثناکو گرفتار کیا گیا جس کی بی ایس او پجار اوتھل زون بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے آرگنائزر اوتھل اپنے شدید الفاظوں میں مذمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ گورنر بلوچستان نے جو نوٹس لیا ہے اسکی اپنے نگرانی میں جواب طلبی کرکے زمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں،انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار آج سے نہیں بلکہ پچھلے کئی دہاِئیوں سے بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ وقت کے گزرنے کے ساتھ بڑھتا گیا ہے۔نہ صرف بولان میڈیکل کالج میں بلکہ بلوچستان کے ہر تعلیمی اداروں میں طلبا کیلئے نئے ہتھکنڈے استعمال کرکے مختلف مسائل کھڑے کرکے ان کے ساتھ تعلیم دشمن پالیسی اپنائی جارہی ہے۔بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے سب بڑا صوبہ ہے،معدنیاتی لحاظ سے بڑا اور تعلیمی لحاظ سے انتہائی کمزور پسماندہ صوبہ ہے جس میں تعلیمی شرح لگ بھگ 30 سے 35 فیصد ہے۔اس بات سے یہ واضع ہوتا ہے کہ حکومت ِ بلوچستان کی عمل میں سے بلوچستان کی تعلیم پر ان کا کوئی توجہ ہے ہی نہیں اور ہمیشہ کی طرح بلوچستان کے لوگوں کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ ایسی کوئی پالیسی رہی ہی نہیں جس بلوچ طلبا کسی نہ کسی طریقے سے تعلیم حاصل کرسکے۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار اوتھل زون کے سینئر نائب صدر مبشر بلوچ،جنرل سیکریٹری عثمان بلوچ، یونٹ سیکریٹری ناصر بلوچ، مظفر بلوچ، نوید بلوچ، ماجد بلوچ، نیاز بلوچ،طاہربلوچ، ظہور بلوچ،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے آرگنائزر نعمان بلوچ، سجاد بلوچ ودیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ بلوچ طلبا ہمیشہ سے ان مشکلات کا سامنا کرتے آرہے ہیں اس دفعہ بھی پی ایم سی ٹیسٹ اسکینڈل کے نتائج کے خلاف طلبا نے آئینی طریقہِ کار کو زیرِ استعمال میں لاتے ہوئے ایک پر امن احتجاج کیا۔جس کے رد عمل میں کوئٹہ پولیس کی پاک وردی میں پولیس کے غنڈہ نما فورس نے نہتے طلبا پر لاٹھی چارج کیا،جس کی وجہ سے بہت سے طلبا شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا اور 20سے30 طلبا کو گرفتار کرلیاگیا۔طلبا جو ہمارے ملک کے مستقبل کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والے ہیں اِن پر آخر کس قانون کے تحت ڈنڈوں کی طاقت استعمال کی گئی۔طلبا جو اپنے حق کی خاطر پرامن احتجاج کررہے تھے ان کے ساتھ دشمنوں جیسا رویہ اپنایا گیا۔بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ طلبا جو خوابوں کی تعبیر کرنے آئے تھے اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ بھرنے آئے تھے انہیں اپنے محنت مشقت کا یہ نتائجہ حاصل ہوا۔ بلوچ طلبا کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ دشمنوں جیسا رویہ کرنا نہایت ہی غیر انسانی فعل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اِن آمرانہ سوچ، نااِنصافیوں کے خلاف اور اپنے تعلیمی حقوق کی خاطر آواز نہیں اٹھائیں گیتو آنے والے وقتوں میں یہ ہمارے آنے والی نسلوں کیلئے مزید مشکلات کا باعث بنیں گے۔ہر ایک طالب علم کابنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کی خاطر متحد ہوکر جدوجہد کریں اور مختلف سطحوں پر آواز اٹھائیں تاکہ کل کسی بلوچ طالب علم کو اِن سب پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جس طرح پہلے بھی بلوچستان کے طلبا نے ہمیشہ سے ثابت قدمی کے ساتھ اپنے حقوق کی خاطر آخری دم تک کھڑے ہوکر جد وجہد کرنے کو ترجیح دی ہے اسی طرح ہم سب کا فرض ہے کہ اِس آمرانہ سوچ کے خلاف اور اپنے حقوق کی خاطر اپنی آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز گورنر ہاس کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرے میں کوئٹہ پولیس کی بلوچ اسٹوڈنٹس پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں