ہر ہفتے 6 ہزار سے زائد بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا فیصلہ

اسلام آباد،حکومت نے 20 اپریل سے ہر ہفتے 6 ہزار سے زائد بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر معید یوسف اور زلفی بخاری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا ہے ۔ اجلاس میں میں بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان لے کر آنے کے بارے میں فیصلے کیے گئے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھاکہ پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستانی شہریوں کی ہر بنیادی ضرورت پوری کریں اور اس کے لئے حکومت کے سارے وسائل بروکار لائے جا رہے ہیں۔پاکستان میں ہر آنے والے مسافر کا کورونا ٹیسٹ ہو گا اور قرطینہ میں رکھا جائے گا۔ پروازوں کا شیڈول قرنطینہ کی صلاحیت کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بدقسمتی سے بیرون ملک مقیم 5 سے 6 ہزار پاکستانی نوکریاں کھو چکے ہیں۔ ہم ان کی ترجیحی بنیاد پر واپس لے کر آنا چاہتے ہیں۔بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانی ترجیحی بنیادوں پر واپس لے کر آ رہے ہیں۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ہم بیرون ملک پاکستانیوں کو اس گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ یو اے ای کی کمپنیاں پاکستانی ملازمین کو ائیر ٹکٹ کا خرچ دیں۔اجلاس میں صوبوں کے نمائندان بھی شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں