روزگار کے مسئلے کو ملک دشمن عناصر منفی پروپیگنڈے کے طوراچھال سکتے ہیں، روک تھام ضروری ہے، قدوس بزنجو
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ سرحدی علاقوں کے غریب عوام کے چولہے بجھنے نہیں دینگے عوام کو جلد سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی خوشخبری ملے گی جس سے ایک مرتبہ پھر انکی معاشی خوشحالی کا سفر شروع ہوگا عوام کو درپیش معاشی مسائل کا بخوبی احساس ہے ہماری حکومت بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو بہتر زرائع معاش کی فراہمی پر بھرپور توجہ مرکوز رکھے گی بلوچستان میں صنعتی اور زرعی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ سرحدوں پر تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے وہاں کے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے یہ صورتحال متعلقہ وفاقی اداروں کی فوری توجہ کی متقاضی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ اسلا م آباد سے صوبائی دارلحکومت پہنچنے کے بعد صحافیوں کے ایک گرپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیاوزیراعلیٰ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام کا روزگار چھوٹے پیمانے کی تجارت سے وابستہ تھا سرحدوں کی بندش سے وہ نان و شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں غربت میں اضافہ ہوا ہے اور صورتحال تشویش ناک ہے جس سے متعلق وفاقی حکومت اور متعلقہ وفاقی کو آگاہ کیا گیاہے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے باعث عوام کے بجھے چہروں کو ایک بار پھر سے روشن کر کے رہیں گے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران صوبے کے سیاسی و قبائلی اکابرین سے اس حساس مسلئے پر تبادلہ خیال کیا ہے ہم سب کا مشترکہ موقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں بارڈر مارکیٹوں کے قیام اور تجارتی سہولتوں کی دستیابی تک سرحدوں پر نرمی اور مقامی لوگوں کو چھوٹے پیمانے پر تجارت کر کے اپنا روزگار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے وزیراعلء نے کہ یہ موقف انہوں نے متعلقہ وفاقی اداروں کے سامنے بھرپور طور پر پیش کیا ہے اور امید ہے کہ جلد سرحدوں کی بندش ختم ہو جائے گی ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ روزگار کے حساس مسلئے کو ملک دشمن عناصر منفی پراپیگنڈہ کے طور پر اچھال سکتے ہیں جس کی موثر روک تھام ضروری ہے۔


