پاکستان کو5اور افغانستان کو 2حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے، محمد شیرانی

کوئٹہ(آن لائن) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء واسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانامحمد خان شیرانی نے کہاہے کہ آنے والے حالات میں افغانستان کو پشتو اور فارسی کی بنیاد پر جبکہ پاکستان کو سندھ،پنجاب،بلوچستان،پشتونستان اور کراچی کی بنیاد پر تقسیم کیاجائے گا، اگر دفاعی ادارے بے بس ہیں تو بلوچستان کے امن وامان کا ٹھیکہ مجھے دیاجائے پھر میں دیکھتاہوں کہ کیسے کوئی کسی کو ٹارگٹ کرتاہے مروجہ جمہوریت خدا پرست جبکہ مروت جمہوریت ہوا پرست دنیا کی ضرورت ہے اور ہوا پرست دنیا کی وکالت ہرملک کی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے انتخابات اور جمہوری انہی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جمہوریت کے لبادے میں اپنے کارناموں کو چھپاتے ہوئے اپنی کارکردگی کاملبہ جمہوری اداروں،سیاسی جماعتوں اور نام نہاد عوامی نمائندوں پر ڈالیں۔پاکستان فلاحی ریاست نہیں بلکہ سیکورٹی ریاست ہے جو دوسروں کی مفادات کے حفاظت عوام سے کرتے ہیں بین الاقوامی دنیا نے امت مسلمہ کودہشتگرد کہاہے کیا کوئی دہشتگرد خود اپنی دہشتگردی کاشکار بن سکتاہے یہ کوئی معقول وجہ نہیں ہے،پاکستان کے اہم عہدے پر فائز شخصیت کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ افغانوں کی حمایت اور ہمدردی مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ قومیت کی بنیاد پر ہے جس کامعنی یہ ہے کہ افغان من الحیث قوم دہشت گرد ہے تو پھر اس دہشتگردی کانشانہ تو کسی اور کو بننا چاہیے یہ کیسی بات ہے کہ افغان خود دہشتگرد اور پھر دہشتگردی کا نشانہ بھی خود بنیں اس لئے جذبات میں اندھے بہرے بن کر ردعمل کااظہار دنیا میں امن کی خرابی کا باعث بنتاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ کے میٹروپولٹین کارپوریشن میں منعقدہ پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولاناحافظ حسین احمد مولانا گل نصیب،مولانا شجاع الملک،مولانا عبدالوحید ودیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانامحمدخان شیرانی نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام کو 2002ء اور 2018ء میں جے یو آئی ایف کے نام سے رجسٹرڈ کیاتھا اور 2008اور 2013ء میں رجسٹرڈ کیاتھا ہم میں سے کوئی بھی جماعت کا رکن تھا اور نہ گروپ کا اب کوئی بھی اس بات کو زبان پر نہ لائے کہ کسی کی رکنیت ختم ہوئی ہے یا نکالاہے جب کوئی ہے ہی نہیں ہم مناسب وقت پر مرکزی ساتھیوں کو ان کے دستور کے مطابق ایک نوٹس جاری کیاجائے گاکہ آپ نے دستور کے کس دفعہ کے تحت 2002اور 2018ء اور 2008ء و2013ء میں ان ناموں سے جماعت رجسٹرڈکیاہے ہم یہ پوچھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔پیغام امن کے عنوان سے جو مجلس بلایاگیا ہے اس کامقصد شرکاء کو ان بنیادی اسباب کی طرف متوجہ کرائیں جو امن کے خرابی کے باعث بنتے ہیں حالات کاجائزہ لئے بغیر ان کے اسباب ومحرکات معلوم کرنے کے سوا جذبات کے ابھار سے اندھے بہرے بن کر اندھادھند اس کے بارے میں کوئی ردعمل کااظہار کیاجائے یہ جذباتی ردعمل امن کو تباہ وبرباد کرتاہے۔آج دنیا میں امت مسلمہ کا جو خون بہہ رہاہے آبادیاں تباہ عزتیں لوٹ رہی ہے یہ اس جذباتی ردعمل کے اظہار اور اقدام کے نتائج ہے،کسی نے یہ نہیں سوچاکہ آج بین الاقوامی سطح پر کہاجاتاہے کہ امت مسلمہ دہشت گرد ہے اگر ہم ان کے ساتھ اس بات کو یوں دہرائے کہ امت مسلمہ دہشتگرد ہے تو اس کانشانہ کسی اور کو بننا چاہیے امت مسلمہ خود اپنی دہشتگردی کا کیسا بنتاہے یہ کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔پاکستان کے ممتاز واہم عہدے پر فائز ایک شخصیت کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ افغانوں کی حمایت اور ہمدردی مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ قومیت کی بنیاد پر ہے جس کامعنی یہ ہے کہ افغان من الحیث قوم دہشت گرد ہے تو پھر اس دہشتگردی کانشانہ تو کسی اور کو بننا چاہیے یہ کیسی بات ہے کہ افغان خود دہشتگرد اور پھر دہشتگردی کا نشانہ بھی خود بنیں علماء اکرام جعلی خون ریزی کو مجاہدین اور طلباء کانام دیتے ہیں جن کے وساطت سے یہ خون ریزی جاری ہے ان کو علماء اکرام نام وعنوان طالبان ومجاہدین کادیتے ہیں لیکن کسی نے یہ سوچا ہے کہ جب کوئی عالم دین قتل ہوجاتاہے مولانا معراج الدین اور اس جیسے دوسرے علماء جو قتل ہوئے ہیں علماء ان کو شہید کانام وعنوان دیتے ہیں لیکن قاتل کومجاہد اور طالب کانام دیتاہے کسی نے یہ سوچاہے کہ مقتول شہید ہے تو پھر قاتل طالب اور مجاہد ہوگا اور اگر قاتل مجاہد اور طالب ہے تو پھر مقتول شہید ہوگا اب اس قسم کی تضاد کی باتوں سے جوامن تہہ وبالا ہوچکاہے اس کابنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم حالات واقعات پر سنجیدگی کی بجائے جذباتی انداز میں جذبات کے ابھار میں ردعمل کااظہار اوراقرار بھی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے ہماری رہنمائی کی ہے کہ حالات اور واقعات پر جذبات سے اندھے بہرے بن کر بغیر سوچے کھود نہ پڑا کرے بلکہ رک جایاکرے اور پھر ان حالات پر اجتماعی وانفرادی طورپر شب وروز سرجوڑ کر بیٹھیں کہ یہ واقعات کیوں رونما ہوئے اس کے کیا اسباب ہے اس کے محرکات کیاہے اس کے نتائج کیا ہونگے اس میں کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ امن کوخراب کرنے والا عمل جذباتی ردعمل کااظہار ہے،اس پیغام امن مجلس ذکر کے ذریعے شرکاء کو ان امور کی طرف متوجہ کیاجاتاہے،تاکہ معاشرتی،صوبائی،قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن لاناچاہے تو پھر جذباتی ردعمل کے اظہار سے گریز کریں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان جیسے ممالک کو اپنے ملک کے اندر اقوام متحدہ کے دستور اور دائرہ کار سے باہر قانون بنانے کا حق حاصل نہیں ہے پاکستان جیسے ممالک کو اپنے ملک کے وسائل کیلئے این او سی لئے بغیر استفادہ حاصل نہیں کرسکتے،1945ء میں جو یواین چارٹر ترتیب دیاگیا اور اقوام متحدہ کی جو تشکیل کی گئی ہے اس آئین کے مندرجات سے نکل کر کوئی ملک قانون نہیں بنا سکتاانسانی حقوق کے منشور کے آرٹیکل18 میں مذہب فرد کا حق ہے تو پھر جب مذہب انسانی حقوق کے منشور کے تابع فرد کا حق ہے تو کوئی ایسا قانون بنا سکتاہے کہ وہ ریاست کاقانون بن جائیں جو نظام ہمیں حاکم نظرآتاہے اس کے بارے میں سمجھنا ضروری ہے کہ یہ نظام اپنے باشندوں کی خدمت کیلئے ہے یا باہر کے طاقت ور قوتوں کے مفادات کی حفاظت کیلئے ہے جس کو سیکورٹی اسٹیٹ ہے،پاکستان فلاحی ریاست نہیں بلکہ سیکورٹی ریاست ہے جو دوسروں کی مفادات کے حفاظت عوام سے کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ زمانے کے لوگوں کی شناخت، دنیا اور حکومتوں کی شناخت کسی بھی فیصلے کیلئے ضروری ہے۔اس معاملے پر سنجیدگی کی ضرورت ہے کہ جو مروجہ جمہوریت ہے یعنی بالغ رائے شماری سے نمائندوں کا منتخب کرناہے یہ جو مروت جمہوریت نام نہاد انتخاب والیکشن کس کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ ہوا پرستی کو خدا پرست دنیا پر دوغلے انسانوں کی واسطے سے مسلط کرناچاہتے ہیں تو مروت جمہوریت ہوا پرست دنیا کی ضرورت ہے اور ہوا پرست دنیا کی وکالت ہرملک میں اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے،ملکی اسٹیبلشمنٹ دنیا کی وکالت یہاں کرتی ہے اور الیکشن اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ جمہوریت کے لبادے میں اپنے کارناموں کو چھپائے رکھے اور اپنی کارکردگی کا ملبہ جمہوری اداروں،سیاسی جماعتوں اور نام نہاد عوامی نمائندوں کے ذمے ڈالیں اگر جمہوریت اورانتخابات ہوا پرست دنیا کی ضرورت ہے اپنے فکر وکردار کومسلط کرنے کیلئے اور ہمارے ہاں ان کی وکالت ہماری اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے تو پھر دوسرے درجے پر انتخابات،جمہوریت ان کی ضرورت ہے تیسرے درجے پر جمہوریت اور انتخابات ہمارے جو اپنے آپ کو عوامی رہبر کہتے ہیں ان کی ضرورت ہے رتبے اور پیسے کیلئے۔ تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ عوام کی ضرورت کیاہے کوئی بھی مسلط نظام عوام کو امن نہیں دے سکتا کیونکہ یہ فلاحی ریاست کی بجائے سیکورٹی ریاست ہے جس کامزاج لوگوں کو کرپٹ بنانا،چور،ڈاکو بننے کا ہے۔عوام کی ضرورت تو امن ہے لیکن سیکورٹی ریاست امن نہیں دیتا،عوام کی ضرورت عدالت ہے لیکن سیکورٹی ریاست عدالت نہیں دیتا عوام کی ضرورت روزمرہ کی ضروریات ہے لیکن وہ عوام کی زندگی دو بھر کردے گا انہوں نے کہاکہ جو لوگ اس مسلط نظام کو کندھا دیکر چلانے کیلئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو پھر وہ انسانی حقوق کا نعرہ کس معقول دلیل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔عوام جذباتی فیصلوں سے خود بھی اجتناب کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔آنے والے حالات کچھ اچھے نظر نہیں آرہے ٹی ٹی پی کے ساتھ مفاہمت جیسی باتیں نہیں ہوگی یہاں حالات بھگاڑ دئیے جائیں گے نشانہ بنا کر لوگوں کو ٹارگٹ کیاجائے گا انہوں نے کہاکہ اگر یہاں دفاعی ادارے ہیں اور کہتے ہیں کہ بے بس ہیں تو میں کہتاہوں کہ بلوچستان کے امن وامان کا ٹھیکہ مجھے دیاجائے پھر میں دیکھتاہوں کہ کیسے کوئی کسی کو ٹارگٹ کرتاہے یہاں نام دفاع کا اور کام تباہی کاہے،انہوں نے کہاکہ آنے والے حالات افغانستان کو فارسی اور پشتو کی بنیاد پر تقسیم جبکہ پاکستان کو سندھی،پنجابی،بلوچستان،پشتونستان اور کراچی کی بنیاد پر تقسیم کرینگے تمام عوامی وسیاسی زعما سے گزارش ہے کہ وہ یک آواز بن کر اسٹبیشلمنٹ سے گزارش کرے کہ ہمیں آپ کااداراتی مجبوری کااحساس ہے ہمارا اسٹیبشلمنٹ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا ذیلی ادارہ ہے وہ مجبور ہے کہ ان کے حکم کی اطاعت کرے۔اگر سیاسی کارکن کسی سیاسی جماعت کی رکنیت کومجبوری سمجھتے ہیں اور آپ ہر اچھے اور برے کام میں ساتھ دیں اور بغیر تنخواہ کے دے رہے ہیں اسٹیبشلمنٹ جو بین الاقوامی اسٹیبشلمنٹ تنخواہ بھی لیتاہے تو پھر اس کی رکنیت اس کی مجبوری کیوں نہیں سمجھتے۔ہمیں حقائق کو تسلیم کرناچاہیے اسٹیبشلمنٹ تسلیم کرے کہ بین الاقوامی اسٹیبشلمنٹ سے جو حکم ملے گا ہم اس کی اطاعت کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں