پورے ملک میں معاشرہ انحطاط کا شکار ہے، اسد بلوچ
کوئٹہ :صوبائی وزیر زراعت اور بی این پی عوامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میر اسد بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں معاشرہ انحطاط کا شکار ہے سیاستدان ہوں یا بیوروکریٹ سب خود غرضی کا شکار ہیں ہم سب اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں جبکہ عوامی مفاد کو پس پشت ڈال ڈال دیا گیا ہے جب ہم بڑھاپے میں پہنچ گئے تو پچتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا لہذا ہمیں غریب عوام کی دعائیں لینے کیلئے عوامی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مبارکباد کے لیئے ٓائے ہوئے پارٹی کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا انکا کہنا تھا کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات دن بدن بدلتے جارہے ہیں اور ہم اس تبدیلی سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتے ہمارے پڑوس میں طالبان کی شکل میں ایک انقلاب ٓاچکا ہے اور اسکے اثرات ہم پر ضرور پڑھیں گئے ملک میں مہنگائی کیخلاف جلسے جلوس ہورہے ہیں جو تھمے گئے نہیں لیکن بطور بلوچستانی ہمیں اپنی مٹی سے پیار کرنا ہوگا بلوچستان سے محبت کرنا ملک سے محبت کرنے کے مترادف ہے کیونکہ بلوچستان بھی پاکستان کی ایک اکائی ہے انہوں نے مذید کہا کہ بلوچستان میں صنعتیں ہیں اور نہ ہی نجی شعبہ جہاں لوگ محنت مزدوری کرکے روزی روٹی پیدا کرسکیں اسی وجہ سے زراعت ہمارے صوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے ہمیں اسکی طرف توجہ دینی ہوگئی تاکہ بیروزگاری میں کمی ہوسکے لیکن اسکے لیئے وسائل کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت صوبے میں زراعت کے فروغ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گئی اور ہم انشااللہ انکے ساتھ بھرپور تعاون کریں گئے انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے افسران اور ملازمین کیساتھ مل کر ہم محکمہ زراعت کو اس مقام پر لے جائیں گئے کہ یہ ملک میں بلوچستان کی پیچان بن جائے گئی بلوچستان میں زیتوں اور کھجور کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کیلئے ہے اگر ہم ان دونوں فصلوں کو جدید بنیادوں پر استوار کریں تو وہ دن دور نہیں کہ ہم ملک کے لئے بھاری زرمبادلہ کما سکتے ہیں اسکے لیئے زمینداروں کوجدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا اور ایک ٹیم بن کر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔


