ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا احتجاجی کیمپ 14ویں روز بھی جاری رہا
کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا احتجاجی کیمپ 14ویں روز بھی جاری رہی جبکہ او پی ڈیز سے بائیکاٹ کا ٹوکن ہڑتال تیسرے ماہ میں داخل ہوگیاہے،ینگ ڈاکٹرز نے مذاکرات کی ناکامی پر کل ریڈزون میں دھرنا اور وزیراعلی ہاؤس کے گھیراؤ کااعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ مطالبات حل نہ ہوئے تو پھر ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کااعلان کیاجائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی جانب سے محکمہ صحت میں پالیسی،ڈاکٹرز کی سروس اسٹریکچر اور ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان سے متعلق احتجاجی کیمپ 14ویں روز بھی جاری رہی جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز میں سروسز کے بائیکاٹ کا سلسلہ2ماہ 11ویں دن میں داخل ہوئی ہے،کوئٹہ کے 9سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ہڑتال سے دور دراز سے آنے والے مریض رل گئے،،،،روزانہ او پی ڈی کا بند درواز دیکھ کر مریض مایوس ہوگئے ہیں،مریض کہتے ہیں ینگ ڈاکٹروں میں احساس ختم ہوگیا۔ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث انتہائی حساس امراض میں مبتلا سینکڑوں مریض تڑپ رہے۔ ینگ ڈاکٹرز سہولیات کے فقدان کو مدع بناکرمریضوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کو حکومت کی کمزوری قرار دے دیا۔ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ پیر کے روز وزیراعلی ہاوس کا گھیراو کریں گے۔ ڈاکٹر حفیظ مندوخیل،ڈاکٹرحنیف لونی ودیگر کاکہناتھاکہ حکومت سے کئی مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے، ہمارے بیشتر ڈاکٹرز اب بھی جیل میں ہیں حکومت مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتی 14 روز سے ہم احتجاجی کیمپ میں بیٹھیں ہیں،ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا کہ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ایمرجنسی سروسز کا بھی بائیکاٹ کیا جائے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں تو ہچکچاہٹ کیوں ہے، سوموار کو دن بارہ بجے ریڈ زون میں داخل ہونگے اور وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کرینگے اگر وہاں بھی ہماری بات نہ سنی تو ایمرجنسی سروسز کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔


