گوادر درھرنے سے متعلق حکومتی اقدامات سنجیدہ نہیں، جان محمد بلیدی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہاہے کہ گوادر دھرناسے متعلق اقدامات سنجیدہ نہیں لگتے،تشکیل کردہ کمیٹی ایک ہفتے بعد وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریگی اور اس وقت تک لوگ سڑکوں پر بیٹھے رہیں یہ کیسا نوٹس ہے،بلوچستان کے ساحلی حدود میں غیر قانونی ماہی گیری اور ٹرالرنگ کو بند کیاجائے،ایران سے ہونے والے بارڈر ٹریڈ کو ای ٹیگ اور ٹوکن کی پابندی سے آزاد کی جائے تاکہ آزادانہ طورپر لوگ اپنا کاروبار کرسکیں اور عوام کیلئے مشکلات ومسائل پیدا کرنے والے سیکورٹی چیک پوسٹ ختم کئے جائیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ جان محمد بلیدی نے کہاکہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی اور اقدامات سے نہیں لگتا کہ کوئی سنجیدہ نوٹس لیا گیا ہے بلکہ حسب معمول کی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جو ایک ہفتے بعد وزیراعظم کو رپورٹ کریں گے جب تک لوگ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر دھرنا پر بیٹھے رہیں یہ کیسا نوٹس ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کا گوادر دھرنے اور مذاکرات میں غیر سنجیدگی افسوسناک اور قابل مذمت ہے دھرنے کو 27 دن گزر چکے ہیں جائز مطالبات پر ابھی تک پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے فوری طور پر بامقصد مذاکرات شروع کئے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ گوادر دھرنے کے شرکاء کے مطالبات فوراََ تسلیم کئے جائیں اوربلوچستان کے ساحلی حدود میں غیر قانونی ماہی گیری اور ٹرالرنگ کو بند کیاجائے،ایران سے ہونے والے بارڈر ٹریڈ کو ای ٹیگ اور ٹوکن کی پابندی سے آزاد کی جائے تاکہ آزادانہ طورپر لوگ اپنا کاروبار کرسکیں اور عوام کیلئے مشکلات ومسائل پیدا کرنے والے سیکورٹی چیک پوسٹ ختم کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں