گوادر دھرنے کے مطالبات صحیح تو عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا، مولانا عبدالحق ہاشمی

کو ئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ گوادر دھرنے کے مطالبات کوصحیح ماننے والے اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کرواتے حق دو تحریک کے ذریعے انشاء اللہ پورے بلوچستا ن حقوق دلائیں گے۔حکمران کی نیت ٹھیک نہیں غروروتکبر کی وجہ سے حکمران معصوم ومظلوم عوام کونہیں سنتا لیکن اب حکمرانوں کو حق دوتحریک کے مطالبات ہر صورت مانناہوگا۔ظلم وجبر ناانصافیوں کے خلاف حق دو تحریک جاری رہے گی بے اختیار حکمران،بدعنوان بااختیارطبقے کے قول وفعل میں تضادہے۔حکومت کے کھاتے میں دھرنے کے مسائل مان لیے گیے ہیں لیکن حقیقت جوں کے توں ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گوادر میں حق دوتحریکے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ حکمرانوں وبااختیار طبقات کی غفلت وکوتاہی اورلوٹ مار کی وجہ سے آج بلوچستان میں ہر طبقہ احتجاج پر ہے عوام کی عزتیں کاروبار اور جان ومال محفوظ نہیں۔تعلیمی وعلاج کے ادارے تباہ ہو کر رہ گیے۔باپردہ حیادار مائیں بہنیں بیٹیاں جو بہت مشکل اور انتہائی ضروری کام کیلئے بھی گھروں سے نہیں نکلتی آج حکمرانوں کی غفلت وکوتاہی کی وجہ سے گھر کے کام کاج چھوڑکرسڑکوں پر احتجا ج کر رہی ہے۔عورتوں نے دھرنے کے دوران بھی بار بار گوادر میں ریلی نکالی احتجاج کیا لیکن بلوچوں کے حقوق کے نعرے لگانے،جمہوریت وقومیت اور مذہب کے نام پر ووٹ لینے والے منتخب نمائندے ٹھس سے مس نہیں ہورہے جو لمحہ فکریہ ہے۔حق دوتحریک کامیاب اورحکمران ناکام ہوئے انشاء اللہ حق دو تحریک پورے بلوچستان میں شروع ہوگی اورحکمرانوں سے حقوق چھین لیں گے۔منتخب نمائندے خاموش،فنڈزکے حصول اورذاتی مفادات کیلئے کوشاں ہیں۔جماعت اسلامی انشاء اللہ بلوچستان کو معاشی آئنی حقوق دلاکر رہے گی۔بلوچستان کے عوام کو انصاف کی فراہمی حقوق دینے میں تمام جماعتیں ناکام ہوئی۔جماعت اسلامی عدل وانصاف کے حصول اسلامی نظام کے قیام کیلئے ہر فورم پرجدوجہد کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں