بلوچستان کے حالات و قبائلی روایت دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، ڈاکٹر حماد ملک

کوئٹہ:ڈائریکٹر وفاقی وزارت انسانی حقوق ڈاکٹر حماد ملک ایڈیشنل سیکرٹری حفیظ مندوخیل،اور ریجنل ڈائریکٹر دانیال سرور خان نے کہا ہے کہ 18ویں ترامیم کے بعد بہت سے فنکشن اب صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں بلوچستان کے حالات و قبائلی روایت دیگر صوبوں سے مختلف ہیں آج بھی صوبے میں چائلڈ لیبر بہت زیادہ ہے ڈرافٹ نیشنل پالیسی برائے فریم ورک برائے انسانی حقوق میں خصوصی توجہ دی گئی ہے چائلڈ رائٹس کے حوالے سے آگاہی سکول کی سطح پر ضروری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ڈرافٹ نیشنل پالیسی برائے فریم ورک برائے انسانی حقوق پر منعقدہ مشاورتی اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں وزارت انسانی حقوق کے ریجنل ڈائریکٹر دانیال سرور خان نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ وزارت انسانی حقوق سے متعلق بلوچستان میں تمام اداروں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے نیشنل پالیسی برائے انسانی حقوق کو صوبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رائے لے کر حتمی شکل دے دی جائے گی اس موقع پر ڈائریکٹر وزارت انسانی حقوق فاروق کلہوڑو نے کہا کہ کوئٹہ میں ڈرافٹ کی تیسری مشاورتی میٹنگ منعقد کی گئی ہے پالیسی کا مقصد انسانی حقوق کو مضبوط بنانا ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اس پالیسی ڈرافٹ کو خود مانیٹر کر رہے ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سے فنگشنز صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں انسانی حقوق سے متعلق پالیسی بھی صوبہ خود نافذ کریں گے اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن سعید مندوخیل نے پالیسی ڈرافٹ سے متعلق مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان قبائلی روایت کا صوبہ ہے یہاں پر انسانی حقوق کو نافذ کرنے کے لئے یہاں کی روایت کو مدنظر رکھنا ہوگا انہوں نے کہا کہ یہاں پر مقامی سطح پر لوگوں کو انسانی حقوق سے متعلق آگاہی نہیں جبکہ صوبائی حکومت کے پاس بھی وسائل کی کمی ہے لہذا وفاق معاونت کرے تاکہ صوبے میں انسانی حقوق سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا جا سکے اس موقع پر ڈائریکٹر ایکشن پلان وزارت انسانی حقوق ڈاکٹر حماد ملک نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کی انسانی حقوق خلاف ورزیوں سے متعلق ہیلپ لائن فعل ہے مختلف ونگز انسانی حقوق کی پالیسیز پر کام کر رہے ہیں جبکہ انسانی حقوقی کی خلاف ورزیوں سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی بھی جاری ہے مشاورتی اجلاس میں بلوچستان کے مختلف محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز نے شرکت کی اور ڈرافٹس کے لیے آپنی آپنی تجاویزات پیش کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں