حکمران غلط بیانی،جھوٹ ویوٹرن کا سہارالیکر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں،مولانا عبدالحق ہاشمی
کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ حکمران غلط بیانی،جھوٹ ویوٹرن کا سہارالیکر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔بھاری سودی قرضے،روپے کے قدر میں کمی،اسٹیٹ بنک کی فروختگی سب آئی ایم ایف کی ایماپر ذاتی مفادات کیلئے کیے جارہے ہیں۔خوفناک بدترین مہنگائی نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے ملک میں عدل وانصاف،دیانت داری اورجمہوریت کا فقدان ہے۔بلوچستان کواپنوں اور غیروں نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔پرامن حالات کو ایک بار پھر خراب کرکے ایف سی اوراوران کے چیک پوسٹوں کو برقراررکھنے کا جوازپیدا کیاجارہا ہے۔حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں مراعات ومفادات میں کمی کے بجائے اضافہ کیا اور عوام کو قربانی کیلئے پیش کرتے ہوئے مہنگائی قرضوں اور بے روزگاری میں بدترین اضافہ کردیاجس کی وجہ سے عوام نان شبینہ کے محتاج،خودسوزی وخودکشی پر مجبورہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں حق دو تحریک عوام کو بیدار ومنظم کرنے کیلئے ایک بڑی حقیقی تبدیلی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حکومت کے پاس اس کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں کہ فوری طور پر عوام کے مسائل دیانت داری واخلاص سے حل کرے۔ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے گونگی، عوام کی چیخوں و پکار پر بہری اور ملکی مسائل پر اندھی ہو چکی ہے۔ عوامی مسائل پر نوٹس اور ٹوئٹس ناکافی غافل ناکام نااہل حکمرانوں کوفوری طور پر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔بدقسمتی سے ساڑھے تین سالوں میں حکمرانوں کا ہر نوٹس عوام پر بھاری پڑتا رہا ہے۔ قوم باشعور اور حکمرانوں کو پہچان چکے ہیں اب قوم نعروں، وعدوں اور اعلانات کی بجائے عملی اقدامات چاہتی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں،بدعنوانی،مہنگائی،بھاری سودی قرضوں،روپیہ کی قدرمیں کمی اور نااہلی سے ملک میں غربت کے بجائے غریب ختم ہورہے ہیں۔ غریب اور امیر کا فاصلہ بڑھ رہا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ جماعت اسلامی صرف دعوے نہیں کرتی بلکہ ان تمام مسائل کا مؤثر حل رکھتی ہے۔ اس وقت ملک کو مسائل سے نجات دلانے کے لیے بہترین اور آخری آپشن جماعت اسلامی ہے۔ اگلے الیکشن میں عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے تاکہ لٹیروں مسائل اورمشکلات وپریشانیوں سے نجات مل سکیں انشاء اللہ اگلے الیکشن میں عوامی تائید وحمایت سے جماعت اسلامی بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرے گی۔ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر اورروپے کی قدر میں 60فیصد کمی حکومتی معاشی پالیسیوں،ماہرین معیشت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت نے قرضوں کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کے ظالمانہ شرائط کا بھاری بوجھ عوام پرلاد دیا ہے، جس کو اٹھانے کی سکت اب اس قوم میں نہیں ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو چکی ہیں۔


