حمید آباد، کھاد کی مصنوعی قلت کیخلاف جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی اور کسان زمیندار اتحاد کا احتجاجی مظاہرہ

حمید آباد: کھاد کی مصنوعی قلت اور ضلعی انتظامیہ کے کی ہٹ دھرمی کے خلاف جماعت اسلامی،نیشنل پارٹی اور کسان زمیندار اتحاد کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ڈیرہ اللہ یار زیرو پوائنٹ سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر مکمل طور پر بند کردیا گیا، سندھ بلوچستان کی جانب جانے والی ٹریفک بند معطل سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق جعفرآباد میں یوریا کھاد کی مصنوعی قلت اور ڈپٹی کمشنر جعفرآباد کی ہٹ دھرمی کے خلاف جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی اور کسان زمیندار اتحاد کی جانب سے ڈیرہ اللہ یار بائی پاس زیرو پوائنٹ کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیا گیا دھرنا کے باعث سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اندرون سندھ اور بلوچستان کی جانب جانیوالی ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی اور سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں دھرنا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری انجینئر عبدالمجید بادینی، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرسول بلوچ، پٹ فیڈر بچا تحریک کے رہنما نصیب اللہ کھوسہ زمیندار غلام حسین بگٹی عبدالرحمن لہڑی و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ جعفرآباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دونوں میں کھاد دستیاب کرنے کی مہلت مانگی تھی لیکن دو روز گزرنے کے باوجود تاحال زمینداروں اور کاشتکاروں کو یوریا کھاد فراہم نہیں گیا کھاد کی مصنوعی قلت کے باعث جعفرآباد کی گرین بیلٹ کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جعفرآباد میں کھاد ایجنسی مافیا اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے غریب کاشتکاروں کو یوریا کھاد مہنگے داموں اور بلیک پر فروخت کیا جارہا ہے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد کو فوری طور پر ہٹایا جائے جب تک ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہیں ہمارا دھرنا جاری رہے گا اس موقع پر مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور کھاد ایجنسی مافیا کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں