ہرنائی، بارش و برفباری سے زلزلہ متاثرین کی مشکلات میں اضافہ،کوئی پرسان حال نہیں

ہرنائی:ہرنائی وگردونواح میں بارش جبکہ پہاڑی سلسلوں میں برفباری کے باعث ہرنائی میں سردی کی شدت میں اضافہ زلزلہ متاثرین کی مشکلات سے دوچار زلزلہ متاثرین بارش اور شدید سرددی کے باوجود خمیوں میں رہائش پزیز ہے زلزلہ متاثرین کو حکومت سے مدد کرنے کی اپیل تفصیلات کے مطابق ہرنائی وگردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف پہاڑوں پر برفباری کی وجہ سے ہرنائی میں سردی کی شدت میں شدید اضافہ ہوا 7اکتوبر کو ہولناک زلزلے سے ہرنائی سٹی اور یونین کونسل صدر ون اور ٹو ہرنائی میں بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان کے ساتھ ہزاروں گھر یاتومہندم ہوچکے یا پھر استعمال کے قابل نہیں رہے جس کی وجہ سے زلزلہ متاثرین اس شدید سردی اور بارش میں ٹینٹوں / خیموں میں رہ رہے ہیں جوکہ انتہائی کمزور خیمے ہے اور سردی کو نہیں روک پاتی ہے جس کی وجہ سے زلزلہ متاثرین جو خیمیوں میں رہے ہیں سردی کے باعث انتہائی مشکلات سے دوچار اور مختلف بیماریاں پھیل رہے ہیں جبکہ زلزلہ متاثرین کے ہر گزرتے دن کے بعد ان کے مشکلات میں اضافہ ہورہاہے وزیراعلی بلوچستان نے دورہ ہرنائی کے دوران زلزلہ متاثرین کی گھروں کو پوری تعمیر کرنے کااعلان کیا لیکن دوماہ کا عرصہ ہونے کے باوجود ابتک وزیراعلی کے اعلان پرکوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے اور نہ ہی زلزلہ متاثرین کو سردی سے بچاؤ کیلئے معیاری خیمے فراہم کئے گئے زلزلہ متاثرین شدید سردی میں انتہائی مشکل کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے محلہ غریب آباد کے ایک بیواہ خاتون نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ7 اکتوبر کے زلزلے میں انکی گھر مکمل طورپر زمین بوس ہوگیا ہے اور اب ہرنائی ریلوے اسٹیشن پر خیمہ لگاکر اپنے یتم بچوں کے ساتھ اس خیمہ میں رہائش پریز ہوں انہوں نے بتایا کہ خیمہ کمزور ہے جوکہ بارش کی پانی کو نہیں روک سکتا ہے اور خیمہ ٹپکتا ہے انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے خیمہ میں رہائش پزیز متاثرین کیلئے بجلی کی سہولیات بھی میسر نہیں ہے اور نہ ہی متبادل انتظام کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ سردی سے بچاؤ کیلئے ہم خیمہ آگ جلاتے ہے جس کی وجہ سے ایک بار ہمارا خیمہ بھی جل گیا اور خیمہ موجود تمام سامان بھی جل گیا بیواہ خاتون نے بتایا کہ یہاں پر مختلف این جی اوز متاثرین کے مدت کرنے کیلئے میں کام کررہے ہیں فوٹو وغیرہ ہمارے گھروں کے بناتے ہے اور متاثرین کیلئے آنے والا سامان اور امدادی رقم من پسند افراد میں تقسیم ہورہا ہے بیواہ خاتون کاکہنا ہے کہ زلزلے کے پہلے دنوں میں ایف سی کی جانب سے ہمیں جو راشن ملا ہے اس کے بعد ہماری مدت کرنے کیلئے کوئی نہیں آیا ہے اور نہ ہی کسی نے مدت کی ہے فوٹو سیشن کرنے کیلئے آئے روز لوگ آتے ہے ہمارے انٹرویو لیتے ہے اور طلے جاتے جب امدادی سامان آتا ہے تو متاثرین کے بجائے رشتہ داروں اور من پسند افراد میں تقسیم کیا جارہا ہے بیواہ خاتون نے وزیراعلیٰ بلوچستان، اسلامک ریلیف کے سربراہ، الخدمت فاؤنڈیشن کے سربراہ سمیت دیگر مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرین کی مدت کرے اور گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے مدت کرے اور بارش اور سردی سے بچاؤ کیلئے ہمیں معیاری خیمے فراہم کرے شدید بارش، ژلہ باری کے بعد یخ بستہ طوفانی ہوائیں چلنے سے زلزلہ متاثرین ساری رات شدید تڑپتے رہے اور طوفانی ہوائے چلنے سے اکثر خیمے اکھڑ گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں