سیاسی جماعتوں وشہریوں کا احتجاج بے اثر، حب میں گیسبحران برقرار

حب(نمائندہ انتخاب) حب شہر میں سوئی گیس بحران کا مسئلہ حل نہ ہو سکا سیاسی جماعتوں اور شہریوں کے احتجاج پر بھی شنوائی نہ ہوسکی گیس بحران کے سبب شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کوئی پُر سان حال نہیں سوئی گیس کمپنی گیس بند ہونے کے باوجود صارفین سے بھاری بلز وصول کرنے میں مصروف ہے وفاقی حکومت کے زیر اثر نجی اور نیم سرکاری اداروں کو عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی عوام نڈھال جبکہ سرکاری ادارے خوشحال ہیں اس حوالے سے حب کے شہریوں اور عوامی حلقوں نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے حب شہر میں جاری گیس بحران کا ہنوز کوئی حل نہیں نکالا جاسکا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے حب کے گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے جبکہ فیکٹریوں اور بڑے ہوٹلز اور سی این جی پمپس میں گیس کمپنی کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی گیس کمپریسرز لگائے گئے ہیں غیر قانونی کمپریسرز لگانے کے سبب کراچی سے حب کو جو گیس تھوڑی بہت مقدار میں گیس دی جارہی ہے وہ غیر قانونی کمپریسرز والے لے جارہے ہیں جبکہ گھریلو صارفین گیس بندش کے عذاب کاشکار ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی بندش کی وجہ سے انہیں صبح کا ناشتہ سمیت دوپہر اور رات کا کھانا پکانے کیلئے دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ مارکیٹ میں حالیہ دنوں گیس بحران کے نتیجے میں جو گیس سلنڈر ز فروخت کئے جارہے ہیں انکا معیار بھی ناقص ہے اور ایل پی جی گیس بھی منہ مانگے نرخوں پر فروخت کی جارہی ہے حب شہر میں انتظامیہ نام کی کوئی شے نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرنگری چوپٹ راج قائم ہے اور شہریوں کو گیس کمپنی کے اہلکاروں کی ملی بھگت کرنے والوں غیر معیاری گیس سلنڈرز فروخت کرنے اور LPGکی فروخت کی آڑ میں لوٹ مار کرنے والوں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا گیا ہے متاثرہ شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے حب شہر میں گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے لیکن اسکے باوجود سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے بھاری بلز دیئے اور وصول کئے جارہے ہیں شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گیس کمپنی کی اس لوٹ مار پر نہ تو کوئی ادارہ نوٹس لینے کی زحمت کررہا ہے اور نہ ہی گیس کی بحالی کے حوالے سے حب کی مختلف سیاسی جماعتوں اور شہریوں کے احتجاج پر کان دھراجارہا ہے عوامی احتجاج پر ہر بار ایک پولیس آفیسر مظاہرین کو روڈ بلاک کرنے کی تعزیرات کے دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کی دھمکی یا پھر گیس بحالی کی یقین دہانی کا لولی پاپ دیکر احتجاج سے دستبردار ہونے پر مجبور کر ادیتا ہے حب کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر اثر یوٹیلٹی سہولیات کی فراہمی کے ذمہ دار نجی اور نیم سرکاری اداروں کی عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے آخر عوام کا قصور کیا ہے جسکی سزا انہیں دی جارہی ہے ایسا کوئی انصاف کا دروازہ ہے جسے کٹھکٹھانے سے حب کے مظلوم کی شنوائی ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں