‘نورکو ڈرگ پارٹی میں شریک کسی اور نے قتل کیا‘، مرکزی ملزم ظاہر جعفر الزام سے مکرگیا

اسلام آبادکے تھانہ کوہسارکی حدود ایف 7 فور میں 20 جولائی کو سابق سفارت کار کی28 سالہ بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں نیا موڑ آگیا ہے،کیس کا مرکزی ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو قتل کرنیکے الزام سے مکرگیا ہے۔آج اسلام آباد کی مقامی عدالت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفرکی جانب سے وکیل نے سوالنامیکے جوابات لکھوائے، ملزم نے اپنے دفاع میں شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنیکی استدعا کی۔نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئیم لزم ظاہر جعفرکے مطابق نور مقدم کے ساتھ کافی عرصیکا تعلق تھا،دونوں فیملیزبھی ایک دوسریکو جانتی تھیں، تاہم نور مقدم سے6 ماہ سیرابطہ نہ تھا،18 جولائی کو وہ اپنی مرضی سے منشیات کی بڑی مقدار کے ساتھ میریگھر آئی، نور مقدم نے مجھیکہا کہ ڈرگ کی پارٹی رکھو، میں نے انکار کر دیا۔ ظاہر جعفرکے مطابق 20 جولائی کو نور مقدم نے اپنے دوستوں کو ڈرگ پارٹی کے لیے میریگھربلایا، میں گھر میں اکیلا تھا، والدین اور دیگر خاندان کے افراد عید کے لییکراچی میں تھے، گھنٹوں بعدجب مجھے ہوش آیا تومیں نیخودکو اپنیلاؤنج میں بندھا ہوا پایا۔ملزم کا کہنا ہیکہ کچھ وقت کے بعد باوردی پولیس اورسول کپڑوں میں افراد نے ریسکیو کیا، جب مجھیریسکیو کیا گیا تو معلوم ہوا کہ نور مقدم کو ڈرگ پارٹی میں شریک فرد یا کسی اور نیقتل کردیا۔ملزم کا کہنا ہیکہ مدعی شوکت مقدم بااثر شخص ہے، اس نے پولیس سیمل کرغلط طریقے سیکیس میں ملوث کیا۔خیال رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 20 جولائی کو 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔نور مقدم قتل کیس کا ملزم ظاہر جعفر پولیس کی تحویل میں ہے، اس کے علاوہ مرکزی ملزم کے والدین اور دیگر افراد بھی گرفتار ہیں جن پر جرم چھپانے اور ملزم کی معاونت کا الزام ہے، مرکزی ملزم نے27 جولائی کو پولیس تفتیش کے دوران اعتراف جرم کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں