لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنے کا قانون کالعدم قرار دے دیا
لاہور”: لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنے کا قانون کالعدم قرار دے دیا۔دو اوور سیز پاکستانیوں نے پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنے پر درخواستیں دائر کی تھیں۔لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بلیک لسٹ کرنے سے متعلق پاسپورٹ ایکٹ خاموش ہے۔عدالت نے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول کی شق 51 کالعدم قرار دے دی۔عدالت نے کہا ہے کہ کیس کا فیصلہ نہ ہونے پر ملزم کو سفر کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔خیال رہے کہ گذشتہ سال 08 مارچ۔2021 کو وفاقی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے چاروں صوبوں کے محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے کہا تھا کہ وہ ملک سے فرار ہونے سے روکنے کے لیے بلیک لسٹ میں رکھے جانے والے افراد کی صحیح تفصیلات فراہم کریں. رپورٹ کے مطابق ہدایات کا مقصد ایئر پورٹس پر شہریوں کو تکلیف سے بچانا ہے جو کسی بھی کیس میں ملوث نہیں ہیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے کہا کہ یہ بات بڑی تشویش کے ساتھ دیکھنے میں آئی ہے کہ چند افراد جنہیں بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی ضرورت تھی، کے نام اور تفصیلات کو مختلف ایجنسیز اور محکموں نے غلط شناختی نمبروں کے ساتھ آگے بھیجا تھا چند نام بلیک لسٹ میں رکھے گئے تھے اور ایجنسیز اور محکموں کی جانب سے فراہم کردہ غلط معلومات کی وجہ سے دوسرے مسافروں کو ان کے پاسپورٹ کو پراسس کرنے کے دوران امیگریشن حکام نے ایئرپورٹ پر روک لیا تھا۔اس سے نہ صرف شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ سرکاری محکموں کی شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور نام خراب ہوتا ہے. محکمہ داخلہ پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کو لکھے گئے خط میں ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے ان سے متعلقہ تمام محکموں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے اہل لوگوں کے انفرادی نام بتانے کی ہدایت کی، اس کے علاوہ چیئرمین نیب، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اور انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا کہ وہ پریشانی سے بچنے کے لیے اشخاص کی صحیح تفصیلات، جن میں ان کا نام، والدین، شناختی کارڈ نمبر اور پاسپورٹ نمبر شامل ہیں کا تذکرہ کریں۔


