حکومت ہماری ہے لیکن لوگ پوچھتے ہیں بی اے پی کی کیا نمائندگی ہے، پرنس آغا عمر

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر پرنس آغا عمر احمد زئی نے کہاہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی وفاق میں گرے لسٹ میں ہے ساڑھے تین سالوں سے بی اے پی کو وفاق میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے،70بورڈز بلوچستان محروم،کچھی کینال کا منصوبہ تعطل کاشکار ہیں اب مزید تسلی پر گزارا نہیں ہوگا اتحادی عملی مظاہرہ کرکے دکھائیں بلوچستان سے متعلق ہمیشہ جھوٹ کاسہارا لیاگیاہے اگر پی ٹی آئی سنجیدگی کے ساتھ اتحادیوں کی نمائندگی تسلیم کرتی ہے توہم آگے چل سکیں گے بصورت دیگر ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے،ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ پرنس آغا عمر احمد زئی نے کہاکہ اگر برابر ہے تو کوئی اچھی وزارت دیں تاکہ بلوچستان کی محرومی ختم ہوں انہوں نے کہاکہ خدارا ہمیں گرے لسٹ سے نکالیں جو اس وقت فنانس کا چل رہا تھا کم از کم بلوچستان عوامی پارٹی وائٹ لسٹ میں تو آجائیں ساڑھے تین سال میں ہمیں وفاق کوئی نمائندگی نہیں مل رہی،انہوں نے کہاکہ حکومت ہماری ہے لیکن لوگ پوچھتے ہیں کہ باپ پارٹی کی کیا نمائندگی ہیں بلوچستان عوامی پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اس سلسلے میں بارہا بات چیت ہوئی ہیں اب مزید تسلی پر گزارا نہیں کرینگے اگر عملی کام ہوگا تو ٹھیک ہے وفاق کے اس وقت 70بورڈز ہیں لیکن بلوچستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ہر جگہ بلوچستان محروم ہیں،70سالوں میں بلوچستان سے کوئی بھی نیشنل بینک کا صدر نہیں بن سکاہے کچھی کینال کاکام تعطل کاشکارہے معاملہ عدم توجہی کاشکارہے بلوچستان سے متعلق جو اعداد وشمار دئیے جاتے ہیں وہ بھی غلط ہوتے ہیں اگر پاکستان تحریک انصاف سنجیدگی سے سوچتی ہے اس طرح سے معاملات آگے نہیں چل سکتے بلوچستان عوامی پارٹی کو نمائندگی دیں گے تو ہم ساتھ دیں گے لیکن اگر نمائندگی نہیں ہوگی تو ہم یہاں سے واک آؤٹ کرتے ہیں اور سینٹ کے کسی بھی سیشن میں شرکت نہیں کرینگے،بعدازاں بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرز منظوراحمدکاکڑ،کہدہ بابر، پرنس آغا عمر احمدزئی اور دیگر نے سیشن کا بائیکاٹ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں