جیکب آباد،محکمہ خزانہ میں 25 کروڑ غبن ہونے کا انکشاف

جیکب آباد(نامہ نگار ) خزانہ آفیس جیکب آباد میں جولائی 2021 سے 25 کروڑ کی کرپشن کا انکشاف ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر عبدالرسولg ابڑو ، ایڈیشنل اکائونٹ آفیسر محمد عثمان راجپوت، آڈیٹروں شمیم مہر،وسیم بہٹو، واجد چانڊیو سے ملی بھگت کر کے خزانہ آفیس کو لوٹنے میں مصروف عمل اے جی سندھ کے اپروول کے بغیر فیملی پینشن کی آئی ڈیز کھول دی گئی معاملے کا چئیرمین نیب کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس آڈیٹر جنرل آف پاکستان سیکریٹری فنانس سندھ اے جی سندھ نے نوٹیس لے لیا الگ الگ انکوائری کامیٹیز مقرر کرپشن میں ملوث آفیسروں اور آڈیٹروں میں کھلبلی مچ گئی تفصیلات کے مطابق خزانہ آفیس جیکب آباد کے کرپٹ ڈسٹرکٹ اکائونٹ آفیسر عبدالرسول ابڑو کی تعیناتی کے بعد آفیس کرپشن کا گڑھ بن گیا اور ایجنٹون نے دیرے جمالیئے جی پی فنڈ پینشن گریجوئٹی ایل پی آر کے کام سے انے والے ملازمین کو طرح طرح سے آبجیکشن لگا کر خوار اور ذلیل کیا جا رہا ہے جس کے بعد ملازمین مجبور ہو کر اپنے تمام کیس ایجنٹ میر داد برڑو ، بابو سرکی ، عبدالغفور لاشاری ، بدر کھوسو اور دیگر کے حوالے کر رہے ہیں اس طرح جولائی اور آگست 2021 میں ایڈیشنل اکائونٹ آفیسر کی غیر موجودگی میں ڈسٹرکٹ آفیسر عبدالرسول ابڑو نے سب اکائونٹنٹ شمیم مہر سے ملی بھگت کر کے فیملی پینشنوں کی درجن جعلی آئی ڈی ھائر کر کے اوپن کر دی گئی اور انہوں نے بقیہ جات کی مد میں لاکھوں روپیے ڈاریکٹ بہیج دیئے ایسی کرپشن کے خلاف ستمبر 2021 میں آنے والے ایڈیشنل اکائونٹ آفیسر مظہر مگسی نے سیکریٹری فنانس اور ای جی سندھ کو لیٹر نمبر 3078 تحت شمیم مہر کو رلیو کر کے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی سفارش کی ہے جس لیٹر کو دبایا گیا تھا جس کو ایک شہری خدا بخش سومرو کیجانب سے لیٹر کو اعلی اختیاریوں تک پہنچایہ ہے جس کے بعد اعلی اختیاریوں کیجانب سے معاملے کا نوٹس لیا گیا ہے اس کے علاوہ عبدالرسول ابڑو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سینئر کمپیوٹر آپریٹر واجد چانڈیو کو آڈٹ کا کام سونپ دیا جس نے لاکھوں روپے کی رشوت لیکر جعلی آئی ڈیز کھول دی ہیں جس میں چار برس سے بند او ٹی سائرہ میمن کی آئی ڈی نمبر 10543282 بغیر سیکریٹری کی پرمیشن کھول دی گئی باوثوق ذرائع کے مطابق ڈی ای او عبدالرسول ابڑو واجد چانڈیو کے یوزر آئی ڈی 10760410 سے تنخواہ جاری کرنے کیلیئے 5 لاکھ روپے لیئے ایسے خبر صحافیون کیجانب نشر کرنے کے بعد ڈی او سیکنڈری محمد پریل شیخ نے ایک لیٹر نمبر 1563 کے تحت 18 جنوری پر ایک آرڈر کے تحت آئی ڈی بند کرکے جاری تنخواہ چالان کی صورت میں جمع کروانے کا حکم دیا گیا لیکن جنوری کے پیرول میں بھی تنخواہ جاری کی گئی اس کے بعد آئی ڈی بند ہوئی لیکن چالان جمع نہ ہو سکا ہے ادھر نائب قاصد سے کمپیوٹر آپریٹر ہونے والے طفیل واگہو گذشتہ 12 برسوں سے خزانہ آفیس میں کمپیوٹر سیپ سسٹم پر آڈٹ اور پیرول کا کام کر رہا ہے جس کے خلاف 2014 میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حاجی عزیز اللہ اوڈہو نے ایک لیٹر نمبر 3468 کے تحت 4 آگسٹ 2014 میں ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر کو ایجوکیشن کے ملازمین کو واپس بہیجنے کا حکم کیا تھا جس پر کچھ ملازمین نے عمل کیا اور کرپشن کے بے تاج بادشاہ طفیل واگہو نے پرواہ تک نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھتے ہوئی غیر قانونی طریقے سے کام کر رہا ہے اور تمام آڈیٹروں کی یوزر پاسورڈ استعمال کر کے جعلی پیمنٹ اور آئی ڈیز کھولنے میں ملوث رہا ہے شمیم مہر نے پینشن کی مد میں جولائی اور آگست 2021 کی پینشن پیرول میں فنانس محکمے میں مقرر بجیٹ سے 16 کروڑ سے زائد ادائیگیاں کیں جس پر عبدالرسول ابڑو نے بھاری رشوت لیکر پیرول پر سگنیچر کئے

اپنا تبصرہ بھیجیں