حکومت کو کرایہ دار و دکانداروں کی فکر ہے تو ان کیلئے سرکاری ریلیف دینے کا اعلان کرے،ایون صنعت وتجارت

کوئٹہ:ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر غلام فاروق خلجی،سینئرنائب صدر بدرالدین کاکڑ،نائب صدر داد خلجی ودیگر عہدیداران نے دکانداروں کے کرایوں سے متعلق صوبائی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو الفاظ کا ہیر پھیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام سے ریلیف لے کر عوام کو دینا دانشمندی نہیں،حکومت کو کرایہ دار دکانداروں کی فکر ہے تو ان کے لئے سرکاری طور پر ریلیف دینے کا اعلان کرے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بلوچستان میں قانونی کاروبار درکار ہیں تو وہ قانونی تجارت کے فروغ کے لئے یہاں کے کاروباری طبقے کو خصوصی ریلیف دیں جب تک صوبے کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لئے کسٹم حکام کے ناروا رویے اور امتیازانہ سلوک کا خاتمہ اور کسٹم ڈیوٹیز و ٹیکسز میں رعایت نہیں دی جاتی اس وقت تک قانونی کاروبار کے فروغ کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا،حالیہ صدارتی احکامات بلوچستان کے لئے نیک شگون نہیں بلکہ اس سے بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آئے لوگ مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے شعبہ کاروبار سے وابستہ افراد کو ریلیف دینے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کسٹم حکام کے رویوں میں تبدیلی کے لئے احکامات اٹھائے اور ڈیوٹیز میں رعایت دی جائے تاکہ لوگ غیر قانونی کاروبار کی بجائے قانونی کاروبار کی طرف راغب ہو سکیں موجودہ صدارتی احکامات ملک بھر اور خاص کر بلوچستان میں کاروبار کے لئے نیک شگون نہیں کیونکہ اس سے کاروباری طبقہ کے لئے حالات مزید گھمبیر ہوں گے بلوچستان کی صورتحال ملک کی دوسری اکائیوں سے یکسر مختلف ہے اور لوگ بے روزگاری کی عفریت کے ہاتھوں مجبور ہیں اسی لئے یہاں کے بیروزگار نوجوانوں اور دیگر افراد نے ایرانی پیٹرولیم کے کاروبار کو یہ جانتے ہوئے بھی جاری رکھا کہ اس میں ان کی زندگی دا پر ہے جب قانونی کاروبار کی راہ میں رکاوٹیں زیادہ ہوں گی تو لوگ خود بخود غیر قانونی کاروبار کی جانب راغب ہوں گے جب بے روزگاروں کو غیر قانونی کاروبار میں پیسہ ملے گا تو وہ اپنی زندگیاں دا پر لگاتے رہیں گے جب تک بلوچستان میں لوگوں کے لئے قانونی کاروبار کے مواقع سہل نہیں کئے جاتے اس وقت تک صدارتی احکامات و دیگر پر عمل درآمد اور قانونی کاروبار کا فروغ ممکن نہیں ہو گا کرایوں کی معافی سے متعلق صوبائی حکومت کا نوٹیفکیشن الفاظ کے ہیر پھیر کے سوا کچھ نہیں اس میں شک نہیں کہ لاک ڈان سے ان کاروباری حضرات کے جو کرایہ ادا کرتے ہیں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے تاہم ان کا کیا کیا جائے جن کا آسرا بھی صرف یہی کرایے ہیں یہاں کے مالکان ایسے نہیں کہ جن کے سینکڑوں دکانیں اور کاروباری مراکز ہیں 2ماہ کے کرایے معاف کرنے کا نوٹیفکیشن کرایہ داروں اور مالکان کو باہم دست و گریبان کرنے کا موجب بنے گا۔حکومت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے طور ریلیف کا اعلان کرے عوام سے ریلیف لے کر عوام کو دینا دانشمندی نہیں ہے بلکہ یہ مالکان اور کرایہ دار کاروباری حضرات کے لئے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو گا جو ہمیں بھی قابل قبول نہیں۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کا روز اول سے ہی کوشش رہی ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں تاہم اس طرح کے نوٹیفیکشنز مزید مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے حکومت کو دکانداروں کی فکر ہیں تو وہ اپنے طور پر ان کے لئے ریلیف کا اعلان کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں