کوئٹہ میں ڈکیتی کی واردات کا سرغنہ پولیس کا سب انسپکٹر نکلا
کوئٹہ: کوئٹہ میں ڈکیتی کی واردات کا سرغنہ پولیس کا سب انسپکٹر نکلا، پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار جبکہ پولیس اہلکار کے وارنٹ گرفتار حاصل کر کے گرفتاری کے لئے تلاش شروع کردی،تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے رہائشی اسد بٹ نے 5جنوری 2022کو تھانہ ائیر پورٹ روڈ میں اپنے گھر میں ڈکیتی کی واردا ت کی ایف آئی آر درج کروائی جس میں اس نے موقف اختیار کیا ہے کہ نامعلوم چوروں نے اس کے گھر میں اس وقت چوری کی جب وہ کراچی گیا ہوا تھا ملزمان نے ڈکیتی کے دوران ایک کروڑ روپے مالیت کے زیورات،جائیداد کی دستاویزات، پانچ موبائل، ایک موٹر سائیکل چرا لی اور فرار ہوگئے جبکہ ملزمان نے دھمکی آمیز خط بھی اس کے گھر پر چھوڑے جس میں اسے شہر چھوڑ دینے کی دھمکی بھی دی گئی اسد علی نے رابطہ کرنے پر این این آئی کو بتایا کہ ملزمان اسے ڈکیتی کے بعد بھی دھمکی آمیز میسج اور مزید رقم کا تقاضہ کرتے رہے پولیس حکام کے مطابق ڈکیتی کا مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزمان کی تلاش شروع کی گئی جس میں سی آئی اے کی معاونت بھی حاصل تھی، پولیس نے ایک چوری شدھ موبائل کے ذریعے دو ملزمان بلال اور محمد علی کا سراغ لگاکر انہیں گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے مسروقہ سامان برآمد کیا پولیس ذرائع کے مطابق ایک گرفتار ملزم مدعی کا قریبی رشتے دار بھی ہے جس کی مدد سے ملزمان نے ڈکیتی کی واردات سرانجام دی، دوران تفتیش گرفتارملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ انکے گروہ کا سرغنہ پولیس کا سب انسپکٹر حیات اللہ موسیٰ خیل ہے جو سبی میں بی سی میں تعینات ہے پولیس حکام کے مطابق مذکورہ پولیس افسر کے پولیس اہلکار پر پہلے بھی تھانہ مسلم باغ میں ایک مقدمہ درج ہے اور کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے اسکی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کر کے تلاش شروع کردی گئی ہے مزید کاروائی جاری ہے


