90 سے زائد حکومتی ارکان عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کریں گے،اپوزیشن

اسلام آباد:اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ایک شور برپا ہے جس کے لیے اپوزیشن جماعتیں سیاسی جماعتوں بالخصوص حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے اور ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن رہنماں نے اپنے بیانات میں کئی دعوے کیے تاہم اب ایک اور دعوی بھی سامنے آ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے دعوی کیا ہے کہ 90 سے زائد حکومتی ارکان عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کریں گے۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ ایک جماعت کے 50 فیصد ارکان اگر اپنے لیڈر کے خلاف ہوں تو انھیں لوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ 90 سے زائد حکومتی ارکان عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کریں گے۔یاد رہے کہ دو روز قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ حکومت چھوڑنے کے لیے تیار اورمسلم لیگ ن سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج بھی کریں گے اور تحریک عدم اعتماد بھی لائیں گے ۔ ہمیں امید ہے کہ عوام کی دعاں سے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گی۔ اپوزیشن لانگ مارچ کا آپشن بھی استعمال کر رہی ہے ۔دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی تیاری پکڑلی وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا معاملے پر مشاورت کے لیے مولانا فضل الرحمان اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان ملاقات طے پا گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے آصف علی زرادری کل مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے جہاں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موونٹ کے سربراہ کی جانب سے سابق صدر کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال پر گفتگو کی جائے گی ، اس دوران دونوں رہنما وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے متعلق مشاورت کریں گے ، اس کے علاوہ ملاقات میں حکومتی اتحادیوں سے رابطوں سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں