حکومت بلو چستان معذور افرد کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرے،امتیاز فاطمہ کی پریس کا نفرنس

کوئٹہ:سی آئی پی کی نیشنل چیئر مین امتیاز فاطمہ نے کہا ہے کہ حکومت بلو چستان قانون سا زی کر تے ہوئے افراد باہم معذوری اور خواجہ سراؤں کو حقوق اورلوکل گورنمنٹ میں نشستیں فراہم کرے،محتاجی سہولیات کا نہ دینے کا ایک نام ہے،پنجاب میں لوکل گور نمنٹ میں باہم معذوری اور سندھ میں خواجہ سراؤں کو نشستیں دی جائیں گی، یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفر نس کر تے ہوئے کہی، اس موقع پر شازیہ بطول، ثناء درانی، سمیع اللہ، ریاض بلو چ، نصر اللہ بھی موجود تھے، امتیاز فاطمہ نے کہا کہ افراد باہم معذوری اور خواجہ سراؤں کو حقوق حاصل نہیں ہیں،اگر ہم اپنے حقوق اور سہو لیات مانگے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے،محتاجی سہولیات کا نہ دینے کا ایک نام ہے، کسی بھی معاشرے کو بہتر بنا نے کئے لئے سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے،انہوں نے کہاکہ دیگر شہروں میں ہر دفتر میں معذور افراد کے لئے سہولیات موجود ہیں لیکن بلو چستان میں ہمیں سہولیات نہیں مل رہی،کئی معذور افراد سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں، انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ میں افراد باہم معذوری اور خواجہ سراؤں کی نشستیں مختص کی جائیں تاکہ وہ اپنے حقوق کی بات خود کر سکیں،انہوں نے کہاکہ پنجاب میں لوکل گور نمنٹ میں باہم معذوری اور سندھ میں خواجہ سراؤں کو نشستیں دی جائیں گی، انہوں نے کہاکہ جب معذور افراد نشستوں پر موجود ہوں گے تب انہیں حقوق مل سکیں گے،خواجہ سراء اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں،خواجہ سراؤں کو معاشرے کا حصہ نہیں بنایا جا رہا گزشتہ روز انہیں انکے گھرمیں زدو کوب کیا گیا ہمیں سہولیات فراہم کی جائیں، انہوں نے کہاکہ حکومت بلو چستان قانون سا زی کر تے ہوئے افراد باہم معذوری اور خواجہ سراؤں کو تحفظ،حقوق اورانہیں لوکل گورنمنٹ میں نشستیں فراہم کرے،انہوں نے کہاکہ سی آئی پی اس وقت پاکستان بھر میں 200 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کا ایک نیٹ ورک ہے، 2017 میں یہ نیٹ ورک قائم کیا گیا جو خواتین، افراد باہم معذوری اور خواجہ سراؤں کے سیاسی و انتخابی حقوق کے تحفظ اور ان کی اس عمل میں شمولیت کو بڑھانے کی کاوشیں کر رہا ہے،انہوں نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں افراد باہم معذوری کی آبادی 913,667جبکہ نادرا کے مطابق 371,833 افراد باہم معذوری مخصوص نشان والے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، نائیکو یابچوں کے سمارٹ کارڈ حاصل کر چکے ہیں تاہم پاکستان کے معروضی حالات کے پیش نظر ان اعداد و شمار کو افراد باہم معذوری کی مکمل تعداد کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی مقامی حکومتوں کے قوانین میں ترامیم کرکے ہر سطح کے مقامی حکومتوں میں کم از کم ایک مخصوص نشست افراد باہم معذوری اور خواجہ سرا فراد کیلئے مختص کی جائے،انہوں نے کہاکہ افراد باہم معذوری ایکٹ 2017 کے رولز آف بزنس فل الفور بنائے جائیں اور ان کو عملی شکل میں لایا جائے، خواجہ سرا افراد کے ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کیلئے صوبائی قانون سازی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں