لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جام کمال

اوتھل: سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ایک مرتبہ پھر حب کو ضلع بنانے کی مخالفت کردی،لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو فیصلے کرنے کی سکت نہیں رکھتے وہ کسی اور کے اشاروں پر چلتے ہیں اور راتوں رات حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ کردیا جو کسی صورت قبول نہیں ،وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو اپنے ضلع میں جانہیں سکتے اور اب تو انکا گھر بھی حب میں ہے کسی کی فرمائش پر ضلع بنانے نہیں دیاجائے گا قدوس بزنجو ہوش کے ناخن لیں، ان خیالات کا اظہار انہوںنے ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں قبائل عمائدین کے ایک مشاورتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا،جام کمال خان نے کہاکہ لسبیلہ ایک گلدستہ ہے اور اس گلدستے کو توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی میں نے پہلے بھی کہاتھا کہ حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ سردار صالح محمد بھوتانی کا نہیں ہوسکتالیکن انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں حب کو ضلع بنانے پر زور دیا اور میرے حوالے سے نامنا سب گفتگو کی لیکن میں سردار صالح بھوتانی پر واضح کرنا چاہتاہوں کہ لسبیلہ کو دریجی کی طرح بننے کبھی نہیں دیا جائے گا جہاں آپ کی اجارہ داری ہو انہوںنے کہاکہ سردار صالح بھوتانی ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں عوام کی مرضی اور رائے سے کرتے ہیں لیکن انہوںنے حب کو ضلع بنانے کے فیصلے میں لسبیلہ کے قدیمی قبائل سے نہ کوئی رائے لی نہ ہی کسی سے کوئی مشاورت کی اور اس نالائق حکومت نے راتوں رات حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ کردیا جس کی نہ ہی یہاں سے ڈپٹی کمشنر نے کوئی رپورٹ دی ہو اور نہ ہی عوام کی طرف سے ایسی کوئی تجویز دی گئی لیکن پھر بھی لسبیلہ کو دوحصوں میں تقسیم کرنے پر زور دیا جارہاہے اس فیصلے سے یہاں کے نہ صرف حالات خراب ہوسکتے ہیں بلکہ خون ریزی ہوسکتی ہے انہوںنے کہا کہ صوبائی حکومت اور سردار صالح بھوتانی اپنا یہ فیصلہ واپس لیں اگر آپ اس کو دھمکی سمجھتے ہیں توسمجھ لیں لسبیلہ کے لوگ اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور صرف روڈوں پر احتجاج نہیں بلکہ ہراس اقدام کی طرف جائیں گے جس سے یہ فیصلہ واپس ہوانہوںنے سردار صالح بھوتانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے ریاست لسبیلہ کو پاکستان میں ضم کرنے کا فیصلہ اسلام اور پاکستان کےلئے کیا اور الحمد اللہ آج تک ہم اس پر قائم ہیں اور انشاءاللہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس پر قائم رہیں گی اور اس جدوجہد کےلئے ہم نے اپنی زمینیں دیں اور بہت کچھ دیا لیکن آپ پاکستان کےلئے اپنا ایک ڈیفنس کا بنگلہ بھی نہیں دے سکتے انہوںنے کہاکہ سردار صالح بھوتانی صاحب جہاں آپ بیٹھتے ہیں وہاں تو پاکستان کی بات کرتے ہیں لیکن دوسری محفلوں میں جب آپ بیٹھتے ہیں تو وہاں پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں تو یہ جو ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے اور ہیں انشاءاللہ یہ بھی جلد ظاہرہوجائیں گے انہوںنے کہاکہ سردار صالح بھوتانی صاحب آپ جس چیز میں ہاتھ ڈال رہے ہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ محفوظ رہیں گے انشاءاللہ جام کمال خان لسبیلہ کے قبائل کے ساتھ ملکر آپ کو منہ دیں گے اگر آپ کے حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو اس دھرتی پر آپ کا رہنا محال کردیں گے آپ بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں اور میں بھی آپ کو اچھی طرح سے جانتاہوں انہوںنے کہاکہ آپ کئی بار ایم پی اے اور منسٹر رہ چکے ہیں لیکن جام غلام قادر ہسپتال،لیڈا،سوک سینٹر،حب ڈیم ،جام غلام قادر اسٹیڈیم ہمارے دورحکومت میں بنے ہیں آپ نے تو کبھی بھی حب کو ترقی نہیں دی یہ سب ترقی ہمارے دورمیں ہوئی دریجی شہر جہاں آپ کا گھر ہے اس کے علاوہ دریجی میں تو کہیں بھی ترقی نظر نہیں آرہی پھر آپ نے کہاں کام کیا ہے کیا وجہ ہے کہ دریجی میں تو 25ڈیم بن سکتے ہیںلیکن پیرکس،ساکران اور حسن پیر میں ڈیم کیوں نہیں بن سکتے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں