حکومتی انتشار کی حوس بلوچ اور بلوچستان دونوں کے حق میں بہتر نہیں، کبیر محمد شہی

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر وسابق سینیٹر میر کبیراحمد محمدشہی نے اسلام آباد پولیس کی بلوچ طلباء پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی انتشار کی حوس ناہی بلوچ اور بلوچستان کے حق میں بہتر ہے۔اور نا ریاست آج اس طرح کے تشدد کی متحمل ہو سکتی ہے،زندہ اور باشعور قومیں اپنے ثقافتی و روایاتی اثاثے کا تحفظ کرتی ہیں۔ہمارے بزرگوں نے تہذیب،ثقافت اور روایات کی ترجمانی اچھے انداز سے کی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔میرکبیراحمدمحمد شہی نے کہاکہ پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بلوچ طلبا پروحشیانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔بلوچستان کا مسئلہ خالصتا سیاسی ہے۔جس کو باہمی مذکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔حکومت کی انتشار کی حوس ناہی بلوچ اور بلوچستان کے حق میں بہتر ہے۔اور نا ریاست آج اس طرح کے تشدد کی متحمل ہو سکتی ہے۔انہوں نے بلوچستان اور پوری دنیا میں بسنے والیتمام بلوچ قوم کو بلوچ ثقافت دن مبارک پیش کرتے ہوئے کہاکہ زندہ اور باشعور قومیں اپنے ثقافتی و روایاتی اثاثے کا تحفظ کرتی ہیں۔ہمارے بزرگوں نے تہذیب،ثقافت اور روایات کی ترجمانی اچھے انداز سے کی۔اور آج کے نوجوان کا بھی ان تمام روایات وثقافت کو باقی رکھنا فرض بنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں