فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انظمام ،سپریم کورٹ کا لارجزبینچ بنانے کا فیصلہ
اسلام آباد :سپریم کورٹ آف پاکستان نے فاٹا انضمام سے متعلق پچیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیاہے ۔ بدھ کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ درخواست گزاروں کی جانب سے آئین میں درج وفاقی اکائیوں کی حثیت تبدیل نا کرنے کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ کیس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ آئین میں ترمیم پر پارلیمنٹ کے کیا اختیارات اور حدود متعین ہیں؟،کیس کو ماہ رمضان کے بعد لارجر بنچ میں سنا جائے گا۔ اٹارنی جنرل پاکستان نے کہاکہ یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کس حد تک آئین میں ترامیم کر سکتا ہے، اگر کسی علاقے کے انضمام سے وہاں کے رہائشیوں کے حقوق صلب ہوں تو وفاقی اکائیوں کا سوال اٹھ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا فاٹا انضمام سے قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کی صوبائی اور قومی اسمبلی میں نمائندگی متاثر ہوئی؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد بڑا مسئلہ ہی فاٹا کے نمائندوں کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کا تھا، فاٹا کے نمائندوں نے پچیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ آئین کے تحت ایگزیکٹو آرڈر سے قبائلی علاقوں کو سیز کیا جا سکتا ہے


