سیندک پروجیکٹ، انتظامیہ اپنے وعدوں سے مکر کو حالات خراب کر رہی ہے،ملازمین

نوکنڈی:سیندک پروجیکٹ میں انتظامیہ اپنے وعدوں سے مکر کر حالات کو ایک بار پھرخراب کررہی ہے کورونا جوکہ چین کے شہروہان سے شروع ہوکر دنیامیں پھیل گئی تھی دوسال بعد پوری دنیا سمیت پاکستان میں کورونا دم توڑ گئی پوری دنیامیں اسکے ایس اوپیز ختم کئے گئے صرف ماسک پہننے تک لوگوں کو محدود کیاگیاتفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں تمام پابندیاں ہٹادی گئی دنیا سمیت پاکستان میں سپورٹس کے بڑے بڑے ایونٹس منعقد ہورہے ہیں جہاں کوئی ایس اوپیز یہاں تک ماسک بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی مگرسیندک پروجیکٹ میں دوسالوں سے جس طرح کے پابندیاں عائد کرکے کوروناایس اوپیز کے جو ڈھونگ رچھائے گئے تھے وہ صرف کمپنی مینجمنٹ کے لئے کمانے کا ذریعہ اور پاکستانی ملازمین کے لئے آفت اور کسی عذاب سے کم نہیں رہی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کے مطابق آخر مقامی خواتین اورملازمین نے تاریخی احتجاج کیاگیاتھا جس پر ایم ڈی سیندک اور ڈپٹی کمشنرسمیت دیگر اداروں کے ذمہ داروں نے اس گارنٹی پر احتجاج ختم کرائی کہ آئندہ کوئی ٹیسٹ اورقرنطینہ نہیں ہوگی اور تمام داخلی وخارجی راستوں کو مکمل کھولا جائیگا مگر ان وعدوں معاہدوں کے دوروزبعد کمپنی مینجمنٹ کیآفیسران اور کنسٹریشن کے افیسران کا ذریعہ ملازمین کو مختلف حربوں سیقرنطینہ اور ٹیسٹ لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ناکامی پر آج ایم ڈی سیندک حاجی رازق سنجرانی کے ذریعہ بھی ملازمین کو اس بات پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی کہ قرنطینہ سینٹر کی بحالی اور ٹیسٹ سسٹم کوجاری کیا جائیگا اورراستوں کو دوبارہ بندکیاجائے گاجوکہ وعدہ خلافی کی ایک اور مثال ہوگی کہ کبھی بھی کمپنی مینجمنٹ اور ایم ڈی نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی مگر کمپنی ملازمین کاکہنا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں راستوں کی بندش ٹیسٹ اور قرنطینہ سینٹر کی بحالی قبول نہیں کریں گے جبکہ کورونا ایس اوپیز کے تحت ماسک وغیرہ لگانے کی پابندی کریں گے جوکہ دنیا میں بہت کم اب اختیارکی جارہی ہے کمپنی مینجمنٹ ہمیں بتائے کہ دنیا کے کس ایریا میں ایسی پابندیاں لگائی گئی تھی جس طرح کے یہاں لگاکرملازمین کو ذلیل کیا گیا صرف چند ڈالرزکمانے کی خاطر اب کوئی بھی پابندی قبول نہیں پروجیکٹ انتظامیہ کے وعدوں کی خلاف ورزیوں پر ڈپٹی کمشنر منصور بلوچ اسسٹنٹ کمشنرتفتان ظہورآحمدبلوچ رسالدارتفتان سرداراکبرخان سنجرانی ودیگر افیسران کو نوٹس لے کر کمپنی مینجمنٹ کواس بات کی پابند بنائی جائیں تاکہ آئندہ مقامی ملازمین کو تنگ نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں