اوآئی سی کانفرنس ناکام بنانے کی بھارتی کوششوں کے ثبوت موجود ہیں، طاہر اشرفی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی وخلیجی امور اور چیئرمین متحدہ علما بورڈ حافظ محمد طاہر محموداشرفی نے کہاہے کہ اوآئی سی پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ کشمیر پر اس نے کتنا جاندار موقف پیش کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے حکومت پاکستان نے اوآئی سی کانفرنس منعقد کراکے دنیا بھر میں بھرپور کامیابی حاصل کی، پینتالیس اوآئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ تشریف لائے،اسی کے قریب دیگر ممالک کے وفود نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ اوآئی سی پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ کشمیر پر اس نے کتنا جاندار موقف پیش کیااوآئی سی سیکرٹری جنرل نے کشمیر و فلسطین پر امت مسلمہ کا موقف پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ اسلاموفوبیا کے خلاف جو کامیابی اوآئی سی نے حاصل کی وہ تاریخی ہے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پریڈ میں مسلم وزرائے خارجہ سمیت چائنہ کے وزیر خارجہ کی موجودگی سے دنیا میں امن کا پیغام گیا ہے، تنقید کرنے والے بتائیں کہ وزیر اعظم کے ایک طرف چین اور دوسری طرف سعودی وزیر خارجہ بیٹھنا کیا کمزور تعلقات کی علامت ہے۔انہو ن نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی میں اپنے خطاب کے ذریعے مسلم امہ کو جگادیا ہے ان کی تقریر نہ صرف پاکستان کے وزیر اعظم کی تقریر تھی بلکہ عالم اسلام کے نمائندے کی تقریر تھی۔وزیر اعظم کا پیغام بڑا واضح تھا انہوں نے امن و سلامتی اور آپس میں بھائی چارے اور جنگوں سے دور رہنے کا پیغام دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اوآئی سی کانفرنس اسلام آباد میں ہونے سے روکنے کے لئے اربوں ڈالرز خرچ کئے بھارت نے اسلامی ممالک کو اسلام آباد آنے سے روکنے کی پوری کوشش کی بھارت کی طرف سے اوآئی سی کانفرنس ناکام بنانے کی کوششوں کے ثبوت موجود ہیں انہوں نے بتایا کہ پریڈ پر فلسطینی وزیر خارجہ کہہ رہے تھے ہمیں پاکستانیوں پر فخر ہے۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلامی ترقیاتی بینک اور اوآئی سی کا افغانستان کی مدد کیلئے معاہدہ ہوا ہے اسلامی وزرائے خارجہ نے کہا وزیر اعظم کی تقریر امت مسلمہ کی ترجمانی تھی انہوں نے کہا کہ جب آپ ابیسلیوٹلی ناٹ کہتے ہیں تو پھر سازشیں بھی ہوں گی،اوآئی سی بنانے اور اوآئی سی سربراہی کانفرنس کرنے والے بھٹو شاہ فیصل کرنل قذافی کا کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کے ساتھ ہر نیکی کے کام کے لئے کھڑا ہوں۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ کسی کو برے ناموں سے نہیں پکارا جانا چاہئے یہ سب کیلئے ہے، ایک مذہبی جماعت کا سپریم کورٹ میں موقف آیا ہے کہ خیانت جائز ہے ووٹ کو عزت دو اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے سب بے نقاب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر میں ہندو بچی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک ہے وہاں جاؤں گا۔علامہ طاہر اشرفی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ او آئی سی کا اجلاس ریگولر اجلاس تھا جو کہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے 22مارچ کو منعقد ہو تاکہ تمام غیر ملکی مہمان بھی مسلح افواج کی پریڈ میں شرکت کرسکیں۔ اس اجلاس میں 150 سے زائد قرار دادیاں پاس ہوئیں جس میں مسئلہ کشمیر، فلسطین، اسلاموفوبیا سمیت دیگر مسائل پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین قابل فخر ہمارا وطن قابل فخر ہماری قوم قابل فخر ہماری فوج قابل فخر اور ہماری حکومت قابل فخر ہے جس نے امت مسلمہ کو جمع کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں