وکلا تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں، فواد چودھری
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ بار پر شدید تنقید کرتے ہوئے بار کو مسلم لیگ ن کی ذیلی تنظیم قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا جواب پڑھ کر لگتا ہے سپریم کورٹ بار باڈی مسلم لیگ ن کی سبسڈری ہے، وکلا تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں اپنی آزادانہ حیثیت برقراررکھنا ہے۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے کہا کہ وکلا تنظیموں کے اس کردار سے عام وکیل نالاں ہے اور لاہور بار کے انتخابات میں اس گروپ کو جو شکست ہوئی وہ وکلا کا ردعمل ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار کی طرف سے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا گیا ہے، عدالت عظمی میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن پارلیمان کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ ڈالنا رکن قومی اسمبلی کا انفرادی حق ہے اور کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں، آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے۔سپریم کورٹ بار نے جواب میں کہا کہ ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خود مختار ہے، کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا، عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے نظامِ حکومت چلاتے ہیں، آرٹیکل 63 کے تحت کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے پہلے نہیں روکا جا سکتا، آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کے خلاف ووٹ ڈالنے پر کوئی نااہلی نہیں ہے۔


