تحریک کامیاب نہیں ہوتی تو اعتماد کا ووٹ شمار ہوگا،چیف جسٹس

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس اور عدم اعتماد کے موقع پر امن و امان بحال رکھنے بابت سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت کے موقع پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر میں کیا کہا کہ ججز کو ساتھ ملایا جارہا ہے؟ کیا اپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا ہے؟عدالتی سوالات کو کس طرح لیا جاتا ہے اسکو بھی دیکھیں،سوشل میڈیا اور ٹی وی پر سنا تھا،چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ سیاسی قائدین کو علم ہونا چاہیے کہ زیر التواءمقدمات پر بات نہ کریں، عدم اعتماد کامیاب ہو تو منحرف ارکان اور وزیراعظم دونوں گھر جائیں گے،اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی،ایسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن بعض چیزیں بہت پیچیدہ ہیں،گاڑی چلانا جرم نہیں لیکن اوورسپیڈنگ پر چالان ہوتا ہے۔ جسٹس جمال خان نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ؟کیا وزیراعظم کو غیر زمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟وزیراعظم کو اعلی عدالتوں کے فورم پر اعتماد نہیں تو انکے نمائیدوں کو کیسے ہو گا۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں