نئے وزیراعلیٰ پنجاب کا معاملہ، پی ٹی آئی کے 3 ناراض دھڑوں نے سر جوڑ لیے
لاہور (انتخاب نیوز) صوبہ پنجاب کے نئے وزیراعلی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے 3 ناراض دھڑوں نے سر جوڑ لیے ، باہمی مشاورت کے لیے علیم خان گروپ ، ترین گروپ اور چھینہ گروپ کے رہنماں کے آپس میں رابطے ہوئے جب کہ جہانگیر ترین تحریک انصاف کے منحرف دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے ناراض دھڑوں کے درمیان باہمی رابطے شروع ہو چکے ہیں ، علیم خان گروپ، ترین گروپ اور چھینہ گروپ کے رہنماں کے آپس میں رابطے ہوئے ہیں جس میں تینوں دھڑوں کے سینئر رہنماں نے غیر رسمی مشاورت کی ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف دھڑوں کو اکٹھا کرنے کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ، اس کمیٹی میں ترین گروپ کی نمائندگی عون چوہدری کریں گے ، کمیٹی تینوں دھڑوں کو متحد کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل پر غور کرے گی ، اس حوالے سے جہانگیر ترین کے مختلف رہنماں سے ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ہیں اور انہوں نے ناراض دھڑوں کا مشترکہ پاور گروپ بنانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ تینوں دھڑوں میں وزیراعلی پنجاب کے لیے حمایت کے حوالے سے تمام گروپس نے آپس میں مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاہم اس معاملے پر تینوں گروپ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی طرف سے آج وزارت اعلی چھوڑے جانے کا امکان ہے ، سردار عثمان بزدار آج ایوان وزیراعلی میں آخری تقریب میں شریک ہوں گے جہاں وقار النسا یونیورسٹی راولپنڈی کے سنگ بنیاد کی تقریب ہو گی ، جس کے لیے وزیراعلی پنجاب نے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو لاہور آنے دعوت دی ہے ، اس تقریب میں عثمان بزدار وقار النسا یونیورسٹی کا نوٹی فکیشن شیخ رشید احمد کے حوالے کریں گے۔خیال رہے کہ وزیراعظم نے عثمان بزدار سے استعفی لے کر پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب نامزد کردیا ، گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کا استعفی طلب کیا تھا اور پرویز الہی کو وزیراعلی نامزد کیا تھا ، جس کے بعد وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا استعفی گورنرہاس کو موصول ہوگیا ہے ، عثمان بزدار کا استعفی جلد منظور کیے جانے کا امکان ہے، گورنرپنجاب استعفی منظور کرکے اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کردیں گے۔


