ایرانی بارڈر پر عوام کو آزادانہ کاروبار کی اجازت دی جائے، جان محمدبلیدی
تربت (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہاکہ بلوچستان سے متصل ایرانی بارڈر پر عوام کو آزادانہ کاروبار کی اجازت دی جائے، حکومت متبادل روزگار کی فراہمی تک عوام کو بارڈر سے کاروبار کی مکمل آزادی دے، عوامی جدوجہد کے نتیجے میں بارڈر معاملات سول انتظامیہ کو سونپے گئے ہیں، سول انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کرنے میں ناکام دیکھائی دے رہا ہے، نیشنل پارٹی اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے حق دو تحریک کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کیچ کے آفس کے سامنے سڑک پر چھٹے روز کے دھرنا پر بیٹھے ہوئے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، مرکزی قیادت اورکارکنان بارڈر ایشوز پر اپنے عوام کے ساتھ ہیں، دھرنا کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں ہم اپنے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان مسائل کے حل کیلئے ہونے والی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیں گے، بارڈر معاملات جو اس سے قبل ایف سی کے ہاتھ میں تھے حق دوتحریک و سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کے نتیجے میں بارڈر معاملات سول انتظامیہ کے حوالے کردئیے گئے لیکن سول انتظامیہان معاملات کو حل کرنیمیں ناکام دیکھائی دے رہے ہیں، سول انتظامیہ سے بہتری کی امید تھی کہ وہ عوام کے مسائل و مشکلات کو خاطر میں لاکر مثبت اقدامات اٹھائیں گے لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ سول انتظامیہ کمشنر مکران اور ڈپٹی کمشنر کیچ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ان مطالبات کے حوالے سے تاکہ لوگوں کے مشکلات کم ہوں، بارڈر کاروبار کے حوالے سے نئی پابندی اور مشکلات پیدا کرنے سے گریز کیا جائے، انھوں نے کہاکہ دنیا میں بارڈر صرف بلوچستان اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ دنیا کے تمام ملکوں کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں مگر کہیں پربھی اس طرح کی پیچیدگیاں اورمشکلات نہیں، سرحدی علاقوں میں لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہوتی ہیں ہربارڈر پر عوام کو سہولیات دی جاتی ہیں ہر جگہ باقاعدہ ایک نظام ہوتا ہے،کوئی ناجائز بندش نہیں ہوتی، زامران سمیت بلوچستان کے تمام سرحدی علاقوں کی ایرانی سرحد سے متصل علاقوں میں رشتہ داریاں ہیں کچھ لوگوں کی اراضی بھی سرحد پار ہیں انہوں نے کہاکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 6 دن گزر جانے کے بعد بھی لوگ اپنے جائز مطالبات پر دھرنا پر بیٹھے ہیں، ماہ صیام کے مبارک موقع پر لوگ روزے کی حالت میں دھرنے پر بیٹھنے پر مجبور ہیں مگر سول انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، انہی لوگوں کی جدوجہد اور کوششوں سے انتظامیہ کو بااختیار بنایا گیا اس سے قبل سرحدی مسائل کیا سرحد کے قریب انتظامیہ کو کھڑا رہنے کا اختیار تک نہیں تھا انتظامیہ اپنے اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کے بجائے لوگوں کے بارڈر معاملات کو فورا حل کریں۔ سول انتظامیہ لوگوں کوکسی صورت تنگ نہ کرے، لوگ اپنے ہیں ان کے ساتھ مل بیٹھ کرمسئلہ حل کریں کیونکہ اب لوگ مطالبات منوائے بغیر نہیں اٹھیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عوام کو نہ روزگار کے مواقع میسر ہیں نہ صوبے میں صنعتیں قائم ہیں، تعلیم وصحت کے مسائل گھمبیر ہیں پینے کاصاف پانی میسر نہیں، زراعت پر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، ایسے حالات میں بارڈر پر سختیاں اور پابندیاں ظلم و زیادتی کے مترادف ہیں، دھرنا سے نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے صدر مشکور انور نے بھی خطاب کیا جبکہ مرکزی کمیٹی کے رکن محمدجان دشتی، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن فداجان بلیدی، ناصررند، الطاف صالح زامرانی، کامریڈ کریم بخش، یاسین پیربخش، کہدہ دوستین، حق دو تحریک کے ضلعی آرگنائزر صادق فتح، ڈپٹی آرگنائزر محمد یعقوب جوسکی، وسیم سفر، مولانا نصیر احمد زامرانی، نوید نصیر و دیگر موجود تھے۔


