نوکنڈی کوحالت جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے، بلوچستان بندوق نہیں امن چاہتا ہے، ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز)نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے چاغی اور نوکنڈی میں فورسز کیجانب سے مزدور ڈرائیوروں پر وحشیانہ سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چاغی اور نوکنڈی کو دو دن سے حالت جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔عوام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ اور غیر انسانی فعل سے بلوچستان کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا پے۔انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے بلوچستان کے عوام کا روزگار وابستہ ہے۔عوام سخت محنت اور مخدوش راستوں سے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بندوق نہیں امن چاہتا ہے اور امن کےلیے سب کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔خصوصا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون کے مطابق عمل کرنا چائیے۔۔نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین دن میں نوجوانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔کوئی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تو کوئی صحرا میں۔اور آج چاغی میں عوامی احتجاج پر فائرنگ کھول دی گئ جو ماورائے قانون اقدام اور انسانیت کی توئین ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی وفاقی حکومت چاغی و نوکنڈی واقع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں